حدیث نمبر: 1384
عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ضَخْمًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُصَلِّيَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أُصَلِّيَ مَعَكَ، فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا وَدَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ وَبَسَطُوا لَهُ حَصِيرًا وَنَضَحُوهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ آلِ الْجَارُودِ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَ: مَا رَأَيْتُهُ صَلَّاهَا إِلَّا يَوْمَئِذٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی موٹا تھا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا، اس لیے اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! مجھ میں آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کی سکت نہیں ہے۔ پھر اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دعوت دی اور آپ کے لیے ایک چٹائی بچھائی اور اس پر پانی چھڑکا۔ آپ نے اس پر دو رکعت نماز پڑھی۔ آل جارود کے ایک آدمی نے اس سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ اس نے جواب دیاکہ میں نے تو اس دن کے علاوہ آپ کو نمازِ چاشت پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ گھر میں نماز کی جگہ مخصوص ہونی چاہیے، لیکنیہ جگہ مالک کی ملکیت میں ہی رہے گی۔ لیکن ہمارے ہاں اس چیز کا سرے سے کوئی اہتمام نہیں کیا جاتا، اگر ہو سکے تو گھر میں ایک کمرہ کو خاص کر دیا جائے تو گھر کے افراد وہاں نماز پڑھ سکیں۔ اِن واقعات میں ایسی جگہ کا افتتاح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے کیا گیا۔ کیا آج کسی نیک آدمی کو اس مقصد کے لیے بلایا جا سکتا ہے؟ بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ جائز ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1384
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 670، 1179، وابوداود: 657 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12329) ۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14147»