الفتح الربانی
أبواب المساجد— مساجد کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي اتِّخَاذِ الْمَسَاجِدِ فِي الْبُيُوتِ باب: گھروں میں مساجد بنانے کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ضَخْمًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُصَلِّيَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أُصَلِّيَ مَعَكَ، فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا وَدَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ وَبَسَطُوا لَهُ حَصِيرًا وَنَضَحُوهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ آلِ الْجَارُودِ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَ: مَا رَأَيْتُهُ صَلَّاهَا إِلَّا يَوْمَئِذٍسیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی موٹا تھا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا، اس لیے اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! مجھ میں آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کی سکت نہیں ہے۔ پھر اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دعوت دی اور آپ کے لیے ایک چٹائی بچھائی اور اس پر پانی چھڑکا۔ آپ نے اس پر دو رکعت نماز پڑھی۔ آل جارود کے ایک آدمی نے اس سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ اس نے جواب دیاکہ میں نے تو اس دن کے علاوہ آپ کو نمازِ چاشت پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔