حدیث نمبر: 1383
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ (بْنِ مَالِكٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ ذَهَبَ بَصَرُهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَوْ جِئْتَ صَلَّيْتَ فِي دَارِي أَوْ قَالَ: فِي بَيْتِي لَاتَّخَذْتُ مُصَلَّاكَ مَسْجِدًا، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى فِي دَارِهِ أَوْ قَالَ فِي بَيْتِهِ، وَاجْتَمَعَ قَوْمُ عِتْبَانَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَذَكَرُوا مَالِكَ بْنَ الدُّخْشُمِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّهُ وَإِنَّهُ يُعَرَّضُ بِالنِّفَاقِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟)) قَالُوا: بَلَى، قَالَ: ((وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَقُولُهَا عَبْدٌ صَادِقٌ بِهَا إِلَّا حُرِّمَتْ عَلَيْهِ النَّارُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

یہی روایت ایک دوسری سند کے ساتھ یوں ہے: سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیّدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کی بینائی ختم ہو گئی، اس لیے انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول اللہ! اگر آپ تشریف لائیں اورمیرے گھر میں نماز پڑھیں، تاکہ میں آپ کی جائے نماز کو مسجد بنالوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور اس کے گھر میں نماز پڑھی۔ سیّدنا عتبان رضی اللہ عنہ کی قوم کے لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر مالک بن دخشم کا ذکر کرنے لگے اور اس کے نفاق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگے کہ اے اللہ کے رسول! وہ ایسا ہے، وہ ویسا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ یہ گواہی نہیں دیتا کہ اللہ ہی معبودِ برحق ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں؟ لوگ کہنے لگے: کیوں نہیں (یہ شہادت تو وہ دیتا ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو بندہ بھی صدق و اخلاص کے ساتھ یہ کلمہ کہتا ہے، اس پر آگ حرام کر دی جاتی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … حدیث ِ مبارکہ کے آخری حصے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو آدمی اللہ تعالیٰ کی الوہیت و ربوبیت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کی شہادت دیتا ہو، اس پر کفر یا نفاق کا فتوی لگانے کے معاملے میں محتاط رہنا چاہیے، جب تک کوئی واضح دلیل نہ ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1383
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12788)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12819»