الفتح الربانی
أبواب المساجد— مساجد کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي اتِّخَاذِ الْمَسَاجِدِ فِي الْبُيُوتِ باب: گھروں میں مساجد بنانے کا بیان
حدیث نمبر: 1381
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِبِنَاءِ الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُنَظَّفَ وَتُطَيَّبَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محلوں میں مساجد بنانے کا ،انہیں صاف ستھرا رکھنے کا اور ان میں خوشبو لگانے کا حکم دیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ان دو احادیث سے گھروں میں مساجد بنانے کا استدلال محل نظر ہے، اگرچہ دار کا معنی گھر بھی کیا گیا ہے، لیکن ان احادیث میں دار سے مراد محلہ یا قبیلہ ہے۔ شارح ابوداود علامہ عظیم آبادی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: بغوی نے شرح السنۃ میں کہا: (دُوْر یا دِیَار سے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد وہ محلے ہیں، جن میں گھر ہوتے ہیں، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {سَأُرِیْکُمْ دَارَ الْفَاسِقِیْنَ} قبیلہ کے لوگ جس محلے میں جمع ہوتے تھے، عرب لوگ اسے دار کہتے تھے۔ امام سفیان نے کہا: دُور سے مراد قبائل ہیں،یعنی قبائل میں مسجدیں تعمیر کی جائیں، … … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس حکم کی حکمت یہ ہے کہ ہر محلے میں اہل محلہ کے لیے ایک مسجد ہو، جس میں وہ آسانی سے نماز ادا کر سکیں، کیونکہ بسا اوقات دوسرے محلہ کی مسجد میں پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے، اور اس طرح سے لوگ مسجد اور جماعت کے اجر سے محروم ہو جاتے ہیں۔ (عون المعبود: ۱/ ۲۴۹)