حدیث نمبر: 1377
وَعَنْهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ حِينَ اشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ، قَالَتْ: فَهُوَ يَضَعُهَا مَرَّةً عَلَى وَجْهِهِ وَمَرَّةً يَكْشِفُهَا عَنْهُ وَيَقُولُ: ((قَاتَلَ اللَّهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ)) يُحَرِّمُ ذَلِكَ عَلَى أُمَّتِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سیاہ چادر تھی، جس وقت آپ کی تکلیف بڑھ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی اسے چہرے پر لے لیتے اور کبھی چہرے سے ہٹا دیتے اور فرماتے: اللہ ان لوگوں کو ہلاک کرے جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس فعل کو اپنی امت پر حرام فرمارہے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … تینوں احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مرض الموت کا ذکر ہے، گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو علم ہو گیا تھا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیائے فانی سے رخصت ہونے والے ہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودیوں اور عیسائیوں کے اس بدکردار کا ذکر کر کے اپنی قبر کو بھی اس قسم کی تعظیم سے محفوظ کرنا چاہا۔ لعنت کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جرم انتہائی سنگین اور کبیرہ گناہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو وجوہات کی بنا پر ایسا کرنے سے منع کیا: (۱) اہل کتاب کی مشابہت سے بچنا اور (۲) اس کا شرک خفی پر مشتمل ہونا، اس کی صورت یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے آتا ہے، لیکننتیجہ مخلوق کی ممنوعہ تعظیم کی صورت میں نکلتا ہے، پھر معاملہ شرکِ جلی تک جا پہنچتا ہے۔ جیسا کہ اب مزاروں اور قبوں پر ہو رہا ہے۔ نیکو کار لوگوں کے مقبروں اور ان کے پاس نماز پڑھنے کا بھییہی حکم ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1377
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف، ابن اسحاق مدلس وقد عنعن أخرجه النسائي في الكبري : 7091 وأخرجه البخاري ومسلم عن ابن عباس و عائشة كما تقدم في355 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26350)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26882»