الفتح الربانی
أبواب المساجد— مساجد کا بیان
بَابُ النَّهْيِ عَنِ اتِّخَاذِ قُبُورِ الْأَنْبِيَاءِ وَالصَّالِحِينَ مَسَاجِدَ لِلتَّبَرُّكِ وَالتَّعْظِيمِ باب: تبرک و تعظیم کے لیے انبیاء وصالحین کی قبروں کو مساجد بنانے کی ممانعت
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ وَأُمَّ سَلَمَةَ ذَكَرَتَا كَنِيسَةً رَأَيْنَهَا بِالْحَبَشَةِ (وَفِي رِوَايَةٍ تَذَاكَرُوا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ فَذَكَرَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَأُمُّ حَبِيبَةَ كَنِيسَةً رَأَيْنَهَا فِي أَرْضِ الْحَبَشَةِ) فِيهَا تَصَاوِيرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ أُولَئِكَ إِذَا كَانَ فِيهِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا وَصَوَّرُوا فِيهِ تِلْكَ الصُّورَ، أُولَئِكَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ))سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ ام حبیبہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے ایک گرجے کا ذکر کیا، جسے انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا، اور ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں: لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آپ کی بیماری میں ایک دوسرے سے باتیں کیں تو سیدہ ام سلمہ اور سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہما نے ایک گرجے کا ذکر کیا جسے انہوں نے حبشہ میں دیکھا، اسمیں تصویریں تھیں،یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کا حال یہ رہا ہے کہ جب ان میں کوئی نیک آدمی فوت ہوتا تو اس کی قبر پر مسجد تعمیر کر کے اس میں یہ تصویریں بنالیتے تھے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ لوگ بدترین مخلوق ہوں گے۔