الفتح الربانی
أبواب المساجد— مساجد کا بیان
بَابُ النَّهْيِ عَنِ اتِّخَاذِ قُبُورِ الْأَنْبِيَاءِ وَالصَّالِحِينَ مَسَاجِدَ لِلتَّبَرُّكِ وَالتَّعْظِيمِ باب: تبرک و تعظیم کے لیے انبیاء وصالحین کی قبروں کو مساجد بنانے کی ممانعت
حدیث نمبر: 1375
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُمَا قَالَا: لَمَّا نُزِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ يُلْقِي خَمِيصَتَهُ عَلَى وَجْهِهِ فَإِذَا اغْتَمَّ رَفَعْنَاهَا عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ: ((لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ)) تَقُولُ عَائِشَةُ: يُحَذِّرُهُمْ مِثْلَ الَّذِي صَنَعُواترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناعبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما دونوں بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات کے قریب ہوئے تو آپ اپنے چہرے پر چادر ڈالتے، جس وقت آپ کو گُھٹن محسوس ہوتی تو ہم چادر اٹھا دیتے تھے،اس حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ یہود و نصاری پر لعنت کرے، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: (دراصل) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو ان جیسا کام کرنے سے ڈرا رہے تھے۔