حدیث نمبر: 1374
عَنْ سَعِيدِ (بْنِ الْمُسَيَّبِ) قَالَ: مَرَّ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِحَسَّانِ بْنِ ثَابِتٍ وَهُوَ يَنْشُدُ (وَفِي رِوَايَةٍ وَهُوَ يَنْشُدُ الشِّعْرَ) فِي الْمَسْجِدِ فَلَحَظَ إِلَيْهِ، وَفِي رِوَايَةٍ: فَقَالَ: فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَنْشُدُ الشِّعْرَ؟ قَالَ: كُنْتُ أَنْشُدُ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ: سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((أَجِبْ عَنِّي اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ))؟ قَالَ: نَعَمْ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: قَالَ فَانْصَرَفَ عُمَرُ وَهُوَ يَعْرِفُ أَنَّهُ يُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سعید بن مسیّب کہتے ہیں: سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کا سیّدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزر ہوا اور وہ مسجد میں اشعار پڑھ رہے تھے۔ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف غصے کی نظر سے دیکھا اور کہا: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد میں شعر پڑھ رہے ہو ؟ آگے سے سیّدناحسان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: آپ سے بہتر ہستی کی موجودگی میں میں شعر پڑھاکرتا تھا، پھر وہ سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا : (حسان!) میری طرف سے جواب دے۔ اے اللہ! روح القدس کے ذریعے اس کی تائید فرما۔ سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں۔ (یہ سن کر)سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ واپس چلے گئے اور سمجھ گئے کہ حسان کی مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … بَابٌ جَامِعٌ فِیْمَا تُصَانُ عَنْہُ الْمَسَاجِدُ مین یہ وضاحت ہو چکی ہے کہ مسجد میں اچھے اشعار پڑھنا درست ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1374
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3212، ومسلم: 2485 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21936 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22284»