الفتح الربانی
أبواب المساجد— مساجد کا بیان
بَابُ مَا يُبَاحُ قُعُودٌ فِي الْمَسَاجِدِ باب: مساجد میں جو کام کرنے جائز ہیں
حدیث نمبر: 1373
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((دَعْهُمْ يَا عُمَرُ، فَإِنَّهُمْ بَنُو أَرْفِدَةَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور حبشی لوگ کھیل رہے تھے، سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں منع کیا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمر! ان کو چھوڑ دو، کیونکہ یہ بنو ارفدہ ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی (صحیح بخاری: ۹۵۰)کی روایت کے مطابق یہ عید کا دن تھا اور عید کے دن کھیلنا ویسے بھی جائز ہے، جب تک کوئی کھیل کسی حرام کام پر مشتمل نہ ہو۔ رہا مسئلہ حبشی لوگوں کا تو ان کا کھیلنا محض کھیل نہیں تھا، بلکہ وہ جنگی آلات کے ذریعے جنگی مہارت کا اظہار کر رہے تھے، جو کہ مطلوب ِ شریعت ہے۔ بنوارفدہ، حبشی لوگوں کا لقب تھا یا ان کے نسب میںکسی باپ کا نام ارفدہ تھا، جس کی طرف ان کو منسوب کیا جاتا تھا، یہ لوگ عید کے روز دوسرے صحابہ کی بہ نسبت کھیل کود کا زیادہ شوق رکھتے تھے۔ مسجد کے تقدس کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی زجرو توبیخ کی، لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضاحت کر دی کہ مسجد میں اس قسم کے امور جائز ہیں۔ حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: مہلب کہتے ہیں: جماعۃ المسلمین کے معاملات مسجد کے ساتھ معلق ہیں، اس لیے جن امور کا تعلق دین اور اہل دین کی منفعت سے ہو، نہ کہ فردِ واحد کی ذات سے، ان کا مسجد میں سرانجام دینا جائز ہے۔ (فتح الباری: ا/ ۷۲۱)