الفتح الربانی
أبواب المساجد— مساجد کا بیان
بَابُ مَا يُبَاحُ قُعُودٌ فِي الْمَسَاجِدِ باب: مساجد میں جو کام کرنے جائز ہیں
حدیث نمبر: 1371
عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ عَنْ عَمِّهِ أَنَّهُ أَبْصَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَاسْتَلْقِيًا فِي الْمَسْجِدِ عَلَى ظَهْرِهِ وَاضِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَىترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عباد بن تمیم اپنے چچا سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ایک ٹانگ پر دوسری ٹانگ رکھ کر مسجد میں پیٹھ کے بل چت لیٹے ہوئے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … مسجد میں لیٹنا تو واضح طور پر معلوم ہور ہا ہے۔ نیز درج ذیل حدیث پر غور فرمائیں: سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روا یت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا اسْتَلْقٰی أَحَدُکُمْ عَلٰی ظَھْرِہِ فَـلَایَضَعْ إِحْدٰی رِجْلَیْہِ عَلٰی الْأُخْرٰی۔)) یعنی: جب آدمی پیٹھ کے بل چت لیٹا ہوا ہو تو ایک ٹانگ کو دوسری پر نہ رکھے۔ (ترمذي: ۲/۱۲۷، صحیحہ: ۱۲۵۵واخرجہ مسلم: ۶/ ۱۵۴بلفظ: لایستلقین احدکم، ثم یضع احدی رجلیہ علی الاخری)
بظاہر ان دو احادیث میں تعارض نظر آ رہا ہے، لیکن حقیقت میں کوئی تضاد نہیں ہے، کیونکہ نہی والی حدیث کو اس شخص پر محمول کیا جائے گا جس کو ستر کھلنے اور بے پردہ ہونے کا خطرہ ہو، اگر پردے کا مکمل اہتمام کیا ہوا ہو تو پھر اس طرح لیٹنے اور ٹانگ پر ٹانگ رکھنے میں کوئی حرج نہیں، جیسا کہ سیّدنا عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ بھی بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ مسجد میں چت لیٹے ہوئے تھے اورایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھی ہوئی تھی۔ (بخاری، مسلم)
بظاہر ان دو احادیث میں تعارض نظر آ رہا ہے، لیکن حقیقت میں کوئی تضاد نہیں ہے، کیونکہ نہی والی حدیث کو اس شخص پر محمول کیا جائے گا جس کو ستر کھلنے اور بے پردہ ہونے کا خطرہ ہو، اگر پردے کا مکمل اہتمام کیا ہوا ہو تو پھر اس طرح لیٹنے اور ٹانگ پر ٹانگ رکھنے میں کوئی حرج نہیں، جیسا کہ سیّدنا عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ بھی بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ مسجد میں چت لیٹے ہوئے تھے اورایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھی ہوئی تھی۔ (بخاری، مسلم)