الفتح الربانی
أبواب المساجد— مساجد کا بیان
بَابُ جَامِعِ فِيمَا تُصَانُ عِنْدَ الْمَسَاجِدِ باب: تمام ان چیزوں کا بیان جس سے مساجد کو محفوظ رکھا جائے
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ وَأَصْحَابُهُ إِذْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ أَصْحَابُهُ: مَهْ مَهْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا تُزْرِمُوهُ دَعُوهُ)) ثُمَّ دَعَاهُ فَقَالَ لَهُ: ((إِنَّ هَٰذِهِ الْمَسَاجِدَ لَا تَصْلُحُ لِشَيْءٍ مِنَ الْقَذَرِ وَالْبَوْلِ وَالْخَلَاءِ أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، إِنَّمَا هِيَ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللَّهِ وَالصَّلَاةِ)) فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مِنَ الْقَوْمِ: ((قُمْ فَأْتِنَا بِدَلْوِ مِنْ مَاءٍ فَشُنَّهُ عَلَيْهِ)) فَأَتَاهُ بِدَلْوِ مِنْ مَاءٍ فَشَنَّهُ عَلَيْهِسیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف فرما تھے، اس وقت ایک بدو آیا اور مسجد میں پیشاب کرنے لگا۔ آپ کے صحابہ کہنے لگے: ٹھہر جا ٹھہرجا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا پیشاب نہ روکو، اسے چھوڑ دو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بلا کر فرمایا: یہ مساجد گندگی، پیشاب اور پائخانہ میں سے کسی چیز کے لیے درست نہیں،یہ تو صرف نماز، اللہ کے ذکر اور تلاوت ِ قرآن کے لیے ہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو فرمایا: اٹھ اور پانی کا ایک ڈول لا کر اس پر بہا دے۔ پس اس نے پانی کا ڈول لا کر اس پر ڈال دیا۔
مسجدکو پاک کرنے کے دو طریقے ہیں: ۱۔ نجاست پر پانی بہا دینا: اس طریقے سے اول تو نجاست کے اثرات زمین میں جذب ہو جائیں گے، اگر بچ گئے تو ہوا، سورج کی روشنی، لوگوں کے چلنے پھرنے اور مٹی کی ذاتی صلاحیت کی وجہ سے ختم ہو جائیں گے۔ بہرحال یہ ایک شرعی رخصت ہے، جسے بلا چون و چرا قبول کیا جانا چاہیے۔
۲۔ زمین کا خشک ہو جانا اور نجاست کے اثرات ختم ہو جانا: سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں مسجد میں سویا کرتا تھا، میں نوجوان آدمی تھا، لیکن ابھی تک میری شادی نہیں ہوئی تھی، میں دیکھتا تھا کہ کتے مسجد میں آتے جاتے اور پیشاب بھی کر دیتے تھے، مگر وہ (صحابہ) اس پر کوئی پانی نہ چھڑکتے تھے۔ (صحیح بخاری: ۱۷۴، ابو داود: ۳۸۲، واللفظ لہ، امام ابوداود نے اس حدیث پر ((فی طھور الارض اذا یبست۔)) جب زمیں خشک ہو جائے تو اس کے پاک ہونے کا بیان کا باب ثبت کیا ہے۔)
شارح ابوداود علامہ عظیم آبادی نے کہا: اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ اگر زمین پر پڑنے والی نجاست سورج کی روشنییا ہوا کی وجہ سے خشک ہو جائے اور اس کے اثرات ختم ہو جائیں تو اسے پاک سمجھا جائے گا، پانی نہ چھڑکنے کا یہی مفہوم ہو سکتا ہے۔ (عون المعبود: ۱ / ۲۱۷) جس حدیث میں زمین کے متاثرہ حصے کی مٹی کو اٹھا لینے کا ذکر ہے، وہ انقطاع و ارسال کی وجہ سے متکلم فیہ ہے، جیسا کہ نصب الرایۃ: ۱/ ۲۱۲ میں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر مٹی کو اٹھا لینا ہی کافی ہوتا تو اس پر پانی بہانا بے سود ہوتا۔ واللہ اعلم بالصواب