الفتح الربانی
أبواب المساجد— مساجد کا بیان
بَابُ جَامِعِ فِيمَا تُصَانُ عِنْدَ الْمَسَاجِدِ باب: تمام ان چیزوں کا بیان جس سے مساجد کو محفوظ رکھا جائے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ: أَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أُمِّ عُثْمَانَ بِنْتِ سُفْيَانَ وَهِيَ أُمُّ بَنِي شَيْبَةَ الْأَكَابِرِ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: وَقَدْ بَايَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَعَا شَيْبَةَ فَفَتَحَ فَلَمَّا دَخَلَ الْبَيْتَ وَرَجَعَ وَفَرَغَ، وَرَجَعَ شَيْبَةُ، إِذَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ أَنْ أَجِبْ، فَأَتَاهُ فَقَالَ: ((إِنِّي رَأَيْتُ فِي الْبَيْتِ قَرْنًا فَغَيِّبْهُ)) قَالَ مَنْصُورٌ: فَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسَافِعٍ عَنْ أُمِّي عَنْ أُمِّ عُثْمَانَ بِنْتِ سُفْيَانَ أَنَّ النَّبِيَّ قَالَ لَهُ فِي الْحَدِيثِ: ((فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ فِي الْبَيْتِ شَيْءٌ يُلْهِي الْمُصَلِّينَ))اکابر بنوشیبہ کی ماں ام عثمان بنت سفیان نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی،یہ بیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شیبہ کو بلایا، اس نے دروازہ کھولا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہو کر واپس آ گئے، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہو گئے اور شیبہ واپس چلا گیا۔ لیکن جلد ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قاصد پھر سے پہنچا اور کہنے لگاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات سن۔ سو وہ آپ کے پاس پہنچ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے بیت اللہ میں ایک سینگ دیکھا ہے اسے چھپا دے۔ اسی حدیث کا ایک دوسرا راوی کہتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے یہ بھی فرمایا کہ بیت اللہ میں نمازیوں کو غافل کرنے والی کسی چیز کا ہونا نامناسب ہے۔