حدیث نمبر: 1358
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشِّرَاءِ وَالْبَيْعِ فِي الْمَسْجِدِ، وَأَنْ تُنْشَدَ فِيهِ الْأَشْعَارُ، وَأَنْ تُنْشَدَ فِيهِ الضَّالَّةُ وَعَنِ الْحِلْقِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اس کے دادا (سیّدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں خرید و فروخت کرنے، اشعار پڑھنے اور گم شدہ چیز کا اعلان کرنے اور جمعہ کے دن نماز سے پہلے حلقے بنا کر بیٹھنے سے منع کیا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَا رَاَیْتُمْ مَنْ یَبِیْعُ أَوْ یَبْتَاعُ فِیْ الْمَسْجِدِ، فَقُوْلُوْا: لَا أَرْبَحَ اللّٰہُ تِجَارَتَکَ۔)) یعنی: جب تم کسی کو مسجد میں خرید و فروخت کرتے ہوئے دیکھو تو کہو: اللہ تعالیٰ تیری تجارت کو نفع بخش نہ بنائے۔ (ترمذی: ۱۳۲۱) ضَالَّۃ کا اطلاق اس گم شدہ چیز پر ہوتا ہے جو جاندار ہو، ایسی غیر جاندار چیز کو ضَائِع اور لَقِیْط کہتے ہیں۔ چونکہ علت اور وجہ ایک ہے، اس لیے مسجد میں ہر قسم کی گم شدہ چیز کا اعلان نہیں کرنا چاہیے۔ شعر بحیثیت ِ شعر قابل مذمت نہیںہے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ کوئی کلام نثر یا شعر ہونے کی وجہ سے قابل تعریفیا قابل مذمت نہیں ہوتی، بلکہ اس کے اچھا یا برا ہونے کا دارومدار اس میں بیان کئے گئے مفہوم پر ہے۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((الشِّعْرُ بِمَنْزَلَۃِ الْکَلَامِ، حَسَنُہُ کَحَسَنِ الْکَلَامِ، وَقَبِیْحُہُ کَقَبِیْحِ الْکَلَامِ۔)) یعنی: اشعار، عام (نثر) کلام کی طرح ہیں،یعنی اچھے اشعار، اچھے کلام کی طرح ہیں اور برے اشعار، برے کلام کی طرح۔ (دارقطنی: ۴۹۰، الادب المفرد للبخاری: ۱۲۵، الصحیحہ: ۴۴۷) سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِکْمَۃً۔)) یعنی: بعض اشعار، حکمت و دانائی پر مشتمل ہوتے ہیں۔ (بخاری، صحیحہ: ۲۸۵۱)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اشعار پڑھنا، سننا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے صحابہ کا اشعار پڑھنا بھی ثابت ہے۔ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیّدنا حسان رضی اللہ عنہ مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے، وہاں سے سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ گزرے اور ان کی طرف گھورنا شروع کر دیا، لیکن آگے سے سیّدنا حسان نے کہا: ((قَدْ کُنْتُ اُنْشِدُ، وَفِیْہِ مَنْ ھُوَ خَیْرٌ مِّنْکَ۔)) یعنی: (اے عمر!) میں تو اس وقت بھی اس میں اشعار پڑھتا تھا، جب اس میں تجھ سے بہتر ہستی (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موجود ہوتی تھی۔ (صحیح مسلم: ۲۴۸۵)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اچھے مضمون پر مشتمل اشعار کے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، بہرحال شعروں کی کثرت کا اہتمام نہیں کرنا چاہیے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ کا اصول تھا۔ نماز جمعہ سے قبل ہر قسم کا حلقہ ممنوع ہے، وہ عام دنیوی گفتگو پر مشتمل ہو یا علمی درس و تدریس پر، اس سے صفیں بھی غیر مرتب ہو جائیں گے اور نماز اور ذکر میں مصروف رہنے والے لوگوں کو بھی تشویش ہو گی۔ اس کی بجائے خطبۂ جمعہ سے پہلے والی عبادات یعنی نماز اور اذکار مسنونہ وغیرہ میں مشغول رہنا چاہیے، مسنون خطبے سے پہلے لوگوں کو کسی حلقے کا پابند نہ کیا جائے اور جب خطبہ شروع ہو تو خاموشی کے ساتھ اسی پر توجہ دھری جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1358
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه بتمامه ابوداود: 1079، وابن خزيمة: 1304ورواه الترمذي: 322 دون انشاد الضالة، وأخرج النھي عن البيع والتحلق في المسجد النسائي: 2/ 47، وأخرج النھي عن البيع وتناشد الاشعار ابن ماجه: 749 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6676 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6676»