الفتح الربانی
أبواب المساجد— مساجد کا بیان
بَابُ صِيَانَةِ الْمَسَاجِدِ مِنَ الرَّوَائِحِ الْكَرِيهَةِ باب: مساجد کو ناپسندیدہ بدبوؤں سے محفوظ رکھنا
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَكَلْتُ ثُومًا ثُمَّ أَتَيْتُ مُصَلَّى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُهُ قَدْ سَبَقَنِي بِرَكْعَةٍ فَلَمَّا صَلَّى قُمْتُ أَقْضِي فَوَجَدَ رِيحَ الثُّومِ، فَقَالَ: ((مَنْ أَكَلَ هَٰذِهِ الْبَقْلَةَ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا حَتَّى يَذْهَبَ رِيحُهَا)) قَالَ: فَلَمَّا قَضَيْتُ الصَّلَاةَ أَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ لِي عُذْرًا، نَاوَلْنِي يَدَكَ، قَالَ: فَوَجَدْتُهُ وَاللَّهِ سَهْلًا، فَنَاوَلَنِي يَدَهُ فَأَدْخَلَهَا فِي كُمِّي إِلَى صَدْرِي فَوَجَدَهُ مَعْصُوبًا فَقَالَ: ((إِنَّ لَكَ عُذْرًا))سیّدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں تھوم کھا کرنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد میں آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رکعت پڑھ چکے تھے، اس لیے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میں ایک رکعت ادا کرنے کے لیے کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تھوم کی بو محسوس کی اور فرمایا: جو شخص یہ سبزی کھائے تو وہ اس کی بو ختم ہونے تک ہر گز ہماری مسجد کے قریب نہ آیا کرے۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نماز پوری کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرا عذر ہے، اپنا ہاتھ مجھے دیجئے۔ وہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم میں نے آپ کو نرم پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنا ہاتھ دے دیا، پھر اسے میری آستین میں سے داخل کر کے سینے تک پہنچایا اور میرے سینے پر بندھی ہوئی پٹی محسوس کر کے فرمایا: واقعی تیرا عذر ہے۔
فلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہی اذاں رہ گئی مگر روحِ بلالی نہ رہی
اس بے توجہی کا مطلب یہ ہوا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کرنا چاہتے ہیںیا فرشتوں کی قربت سے دور رہنا چاہتے یا ان کو تکلیف پہنچانا چاہتے ہیں۔ سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ اَکَلَ مِنْ ھٰذِہِ الشَّجَرَۃِ الْمُنْتِنَۃِ فَـلَایَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا فَاِنَّ الْمَلَائِکَۃَ تَتَأَذّٰی مِمَّا یَتَأَذّٰی مِنْہُ الْاِنْسُ۔)) (صحیح بخاری، صحیح مسلم) یعنی: جو آدمی اس بدبودار درخت کا پھل (پیاز) کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے، کیونکہ فرشتے اس چیز سے تکلیف محسوس کرتے ہیں، جس سے انسان کرتے ہیں۔ سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ جب وہ کسی آدمی سے پیاز اور لہسن کی بو محسوس کرتے تو اسے بقیع کی طرف نکل جانے کا حکم دے دیتے۔ (مسلم: ۵۶۷) آخر کیا وجہ ہے کہ اس قسم کی وعیدوں کے باوجود ہم ان احادیث کے مفاہیم پر غور نہیں کرتے اور اپنی طبیعت اور زبان کے چسقے کے غلام بن کر رہ جاتے ہیں۔ کیا کچا پیاز وغیرہ کھانے والے آدمی کے لیےیہ وعید کافی نہیں ہے کہ اگر مسجد نبوی ہوتی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موجود ہوتے تو اسے مسجد نبوی سے باہر نکال دیا جاتا؟ سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ((نَھٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَنِ الثُّوْمِ وَالْبَصَلِ وَالْکُرَاثِ۔)) یعنی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لہسن، پیاز اور گندنا کھانے سے منع فرمایا۔ (مسند طیالسی: ۲۱۷۱، صحیحہ:۲۳۸۹)
گندنا: … ایک بدبودار قسم کی ترکاری جو پیاز کے مشابہ ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ اگر ان بدبودار چیزوں کو پکا کر ان کی بدبو ختم کر دی جائے تو ان کا کھانا جائز ہو گا۔ممکن ہے کہ اس ضمن میں ہم درج ذیل حدیث سے سبق حاصل کر لیں: حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں مسواک کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ((إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا قَامَ یُصَلِّی أَتَاہُ الْمَلَکُ فَقَامَ خَلْفَہٗیَسْتَمِعُ الْقُرْآنَ وَیَدْنُوْ فَلا یَزَالُیَسْتَمِعُ وَیَدْنُوْ حَتّٰییَضَعَ فَاہُ عَلٰی فِیْہِ فَـلَا یَقْرَأُ آیَۃً إِلاَّ کَانَتْ فِی جَوْفِ الْمَلَکِ۔)) یعنی: جب بندہ نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے اور اس کے پیچھے کھڑے ہو کر قرآن مجید سنتا اورقریب ہوتا رہتا ہے، وہ قرآن مجید سنتے سنتے اتنا قریب ہوجاتا ہے کہ اپنا منہ اس کے منہ پر رکھ دیتا ہے اور نمازی جو آیت بھی پڑتا ہے فرشتہ اسے اپنے اندر سما لیتا ہے۔ (سنن بیہقی: ۱/ ۳۸، مسند بزار: ص ۶۰، صحیحہ: ۱۲۱۳)