الفتح الربانی
أبواب المساجد— مساجد کا بیان
بَابُ تَنْزِيهِ الْمَسَاجِدِ عَنِ الْأَقْذَارِ باب: مساجد کو گندگیوں سے محفوظ رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1351
عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((إِذَا صَلَّيْتَ فَلَا تَبْصُقْ بَيْنَ يَدَيْكَ وَلَا عَنْ يَمِينِكَ، وَلَكِنِ ابْصُقْ تِلْقَاءَ شِمَالِكَ إِنْ كَانَ فَارِغًا، وَإِلَّا فَتَحْتَ قَدَمَيْكَ وَادْلُكْهُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا طارق بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو نماز پڑھے تو اپنے آگے اور دائیں طرف نہ تھوک، البتہ اپنی بائیں جانب تھوک لیا کر، بشرطیکہ وہ خالی ہو (یعنی اس طرف کوئی نمازی نماز نہ پڑھ رہا ہو)، وگرنہ اپنا قدم اٹھا اور (اس کے نیچے تھوک کر) اسے مل دے۔
وضاحت:
فوائد: … مذکورہ بالا احادیث مین یہ صراحت کردی گئی ہے کہ مسجد میں تھوکنا غلطی ہے، اگر تھوکنا پڑ جائے تو درج ذیل آداب کو مد نظر رکھا جائے: ٭ قبلہ سمت میں نہیں تھوکنا
٭ دائیں جانب نہیں تھوکنا
٭ اگر بائیں جانب کوئی نمازی ہو تو اس طرف بھی نہیں تھوکنا، بصورت دیگر کوئی حرج نہیں
٭ بائیں جانب نمازی ہونے کی صورت میں بائیں پاؤں کے نیچے تھوک کر اسے رگڑ دینا
٭ یا پھر کپڑے پر تھوک کر اسے مل دینا
یہ آداب اس وقت مرتب کیے گئے، جس وقت مسجد نبوی کی زمین کچی تھی۔ موجود دور میں قالین، پکا فرش اور پتھر وغیرہ کا لحاظ کرتے ہوئے صرف آخری طریقہ استعمال کرنا چاہیے۔ واللہ اعلم بالصواب
٭ دائیں جانب نہیں تھوکنا
٭ اگر بائیں جانب کوئی نمازی ہو تو اس طرف بھی نہیں تھوکنا، بصورت دیگر کوئی حرج نہیں
٭ بائیں جانب نمازی ہونے کی صورت میں بائیں پاؤں کے نیچے تھوک کر اسے رگڑ دینا
٭ یا پھر کپڑے پر تھوک کر اسے مل دینا
یہ آداب اس وقت مرتب کیے گئے، جس وقت مسجد نبوی کی زمین کچی تھی۔ موجود دور میں قالین، پکا فرش اور پتھر وغیرہ کا لحاظ کرتے ہوئے صرف آخری طریقہ استعمال کرنا چاہیے۔ واللہ اعلم بالصواب