حدیث نمبر: 1349
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((عُرِضَتْ عَلَيَّ أُمَّتِي بِأَعْمَالِهَا حَسَنَةٍ وَسَيِّئَةٍ، فَرَأَيْتُ فِي مَحَاسِنِ أَعْمَالِهَا إِمَاطَةَ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَرَأَيْتُ فِي سَيِّئِ أَعْمَالِهَا النُّخَاعَةَ فِي الْمَسْجِدِ لَا تُدْفَنُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا ابو سہلہ سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی لوگوں کو نماز پڑھا رہا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے دیکھ رہے تھے، اس نے دوران نماز قبلہ کی طرف تھوکا۔ جس وقت وہ فارغ ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ شخص آئندہ تمہیں نماز نہ پڑھائے۔ بعد میں جب اس نے نماز پڑھانے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے اسے منع کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان اسے سنا دیا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کا ذکر کیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: ہاں، (میں نے منع کیا ہے) کیونکہ تو نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … ابو داود کی روایت میں ہے: ((اِنَّکَ قَدْ آذَیْتَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ)) تونےاللہاوراسکےرسولکوتکلیف دی ہے۔ یہ بہت بڑی ڈانٹ ہے۔اس کا مفہوم یہ ہے کہ اس آدمی نے ایسا کام کیا جس کو اللہ اور اس کا رسول پسند نہیں کرتا ہے۔امامت و خطابت جیسی ذمہ داریاں سنبھالنے والوں کو متنبہ ہو جانا چاہیے اور اپنے منصب کی قدر کرتے ہوئے تمام آلائشوں سے باز رہنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1349
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 481، وابن حبان: 1636 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16561 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21883»