حدیث نمبر: 1339
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا كَانَ فِي الْمَسْجِدِ جَاءَ الشَّيْطَانُ فَأَبَسَّ بِهِ كَمَا يُبَسُّ الرَّجُلُ بِدَابَّتِهِ فَإِذَا سَكَنَ لَهُ زَنَقَهُ أَوْ أَلْجَمَهُ)) قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَأَنْتُمْ تَرَوْنَ ذَلِكَ، أَمَّا الْمَزْنُوقُ فَتَرَاهُ مَائِلًا كَذَا لَا يَذْكُرُ اللَّهَ، وَأَمَّا الْمَلْجُومُ فَفَاتِحٌ فَاهُ لَا يَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم سے کوئی مسجد میں ہوتا ہے تو شیطان اس سے کوئی بہانہ بناتا ہے، جیسے آدمی اپنے جانور سے کوئی بہانہ بناتا ہے، جب وہ اس کے لیے ٹھہر جاتا ہے تو وہ اسے جھکا لیتا ہے یا لگام ڈال لیتا ہے ۔ سیّدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تم یہ سب کچھ دیکھ رہے ہو، جسے جھکا لیا جاتا ہے تو تم اسے ایسے جھکا ہوا ہی دیکھتے ہو کہ وہ اللہ کا ذکر نہیں کرتا، اور جسے لگام ڈال لی جاتی ہے، تو وہ اپنا منہ کھول لیتا ہے اور اس طرح اللہ کا ذکر نہیں کرتا۔

وضاحت:
فوائد: … سبحان اللہ! کیا سچ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے! موجودہ زمانے کے لوگ اس حدیث کا سب سے بڑھ کر مصداق بنے ہوئے ہیں۔ فرضی نمازوں کے علاوہ تو مسجد میں آنا ہی درکنار، ان فرائض کی ادائیگی کے لیے مسجد میں آنے والوں کی کثیر تعداد مفقود ہو چکی ہے اور جو آتے ہیںوہ آنے میں تاخیر اور جانے میں تعجیل کرتے ہیں۔ اب پتہ چلا کہ ان بیچاروں کے سینوں میں شیطان گھس جاتا ہے اور ان کے سینوں سے تسکین غصب کر کے ان کو مسجد سے بھگا دیتا ہے۔ مانا کہ بعض لوگ مجبور ہوتے ہوں گے، لیکنیہ کلیہ سمجھ میں نہیں آتا کہ مسجد میں نماز عشاء کی ادائیگی کے لیے نمازیوں کی کل تین صفیں بن گئیں، ابتدائے نماز کے وقت آدھی صف موجود تھی اور ڈیڑھ صف کے پاس تو نماز کے بعد مختصر سا درس سننے کا وقت بھی نہیں تھا کہ سلام کے بعد فورا انھوں نے مسجد سے نکلنا شروع کر دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1339
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8370 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8352»