الفتح الربانی
أبواب المساجد— مساجد کا بیان
بَابُ مَا يُقَالُ عِنْدَ دُخُولِ الْمَسْجِدِ وَالْخُرُوجِ مِنْهُ وَآدَابِ الْجُلُوسِ فِيهِ وَالْمُرُورِ باب: مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت دعائیں پڑھنے¤اور مسجد میں بیٹھنے اور وہاں سے گزرنے کے آداب کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا كَانَ فِي الْمَسْجِدِ جَاءَ الشَّيْطَانُ فَأَبَسَّ بِهِ كَمَا يُبَسُّ الرَّجُلُ بِدَابَّتِهِ فَإِذَا سَكَنَ لَهُ زَنَقَهُ أَوْ أَلْجَمَهُ)) قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَأَنْتُمْ تَرَوْنَ ذَلِكَ، أَمَّا الْمَزْنُوقُ فَتَرَاهُ مَائِلًا كَذَا لَا يَذْكُرُ اللَّهَ، وَأَمَّا الْمَلْجُومُ فَفَاتِحٌ فَاهُ لَا يَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّسیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم سے کوئی مسجد میں ہوتا ہے تو شیطان اس سے کوئی بہانہ بناتا ہے، جیسے آدمی اپنے جانور سے کوئی بہانہ بناتا ہے، جب وہ اس کے لیے ٹھہر جاتا ہے تو وہ اسے جھکا لیتا ہے یا لگام ڈال لیتا ہے ۔ سیّدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تم یہ سب کچھ دیکھ رہے ہو، جسے جھکا لیا جاتا ہے تو تم اسے ایسے جھکا ہوا ہی دیکھتے ہو کہ وہ اللہ کا ذکر نہیں کرتا، اور جسے لگام ڈال لی جاتی ہے، تو وہ اپنا منہ کھول لیتا ہے اور اس طرح اللہ کا ذکر نہیں کرتا۔