حدیث نمبر: 1338
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُوسَى ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ بَنَّةَ الْجُهَنِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى قَوْمٍ فِي الْمَسْجِدِ أَوْ فِي الْمَجْلِسِ يَسُلُّونَ سَيْفًا بَيْنَهُمْ يَتَعَاطَوْنَهُ بَيْنَهُمْ غَيْرَ مَغْمُودٍ، فَقَالَ: ((لَعَنَ اللَّهُ مَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ، أَوَلَمْ أَزْجُرْكُمْ عَنْ هَٰذَا؟ فَإِذَا سَلَلْتُمُ السَّيْفَ فَلْيَغْمِدْهُ الرَّجُلُ ثُمَّ لْيُعْطِهِ كَذَلِكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

دوسری سند سے مروی ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ کو سیّدنا بنّہ جہنی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں یا کسی مجلس میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے جو بغیر نیام کے تلوار سونت کر ایک دوسرے کو پکڑا رہے تھے، یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص ایسا کرتا ہے اللہ اس پر لعنت کرے ، کیا میں نے تمہیں اس طرح کرنے سے منع نہیں کیا؟ جب تم تلوار نکالو توآدمی اسے نیام میں رکھے، پھر وہ اسی طرح آگے دے دے۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے یہ اندازہ لگانا آسان ہو جاتا ہے کہ کسی مسلمان کو تکلیف دینا اللہ تعالیٰ کو کتنا ناپسند ہے۔ عصر حاضر میں اس نقطے پر غور و فکر کرنے والے لوگ بہت کم ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1338
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، روي عن ابن لھيعة عبد الله بن وھب۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 1190، وفي الاوسط : 2591، والبزار: 3335 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14742، 14980 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14801»