حدیث نمبر: 1332
عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَأَرْضَاهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ (وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: ((بِسْمِ اللَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ))) وَقَالَ: ((اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ))، وَإِذَا خَرَجَ صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ (وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: ((بِسْمِ اللَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ)) ثُمَّ قَالَ: ((اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ)))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدۃ فاطمہ بنت رسول اللہ رضی اللہ عنہا وارضاھا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود وسلام بھیجتے، اور ایک روایت میں ہے: یہ دعا پڑھتے: بِسْمِ اللّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللَّہِ (اللہ کے نام کے ساتھ، اور رسول اللہ پر سلامتی ہو) اور پھر یہ پڑھتے: اَ للّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ۔ (اے اللہ! میرے لیے میرے گناہ بخش دے اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے) اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلتے تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود وسلام بھیجتے، اور ایک روایت میں ہے کہ بِسْمِ اللّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللَّہِ کہتے اور پھر یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ فَضْلِکَ (اے اللہ! میرے لیے میرے گناہ بخش دے اور میرے لیے اپنے فضل کے دروازے کھول دے)۔

وضاحت:
فوائد: … مسجد میں داخل ہوتے وقت یا خارج ہوتے وقت کی دعاؤں پر دلالت کرنے والی مذکورہ بالا احادیث کے علاوہ مزید روایات درج ذیل ہیں، آخر میں خلاصہ پیش کیا جائے گا۔ سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: اَعُوْذُ بِاللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَبِوَجْھِہِ الْکَرِیْمِ وَسُلْطَانِہِ الْقَدِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔ (میں عظمت والے اللہ، اس کے کرم والے چہرے اور اس کی قدیم بادشاہت کی پناہ میں آتا ہوں، شیطان مردود سے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمییہ دعا پڑھتا ہے تو شیطان کہتا ہے کہ یہ شخص سارا دن یا دن کے باقی حصے میں مجھ سے محفوظ ہو گیا۔ (ابوداود: ۴۶۶)
سیّدنا ابو حمیدیا ابو اسید رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی مسجد میں داخل ہو تو وہ یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ۔ (اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے) اور جب نکلے تو کہے: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ۔ (اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں) (صحیح مسلم: ۷۱۳) لیکن ابوداود (۴۶۵) کی روایت میں شروع مین یہ اضافہ ہے: جب آدمی مسجد میں داخل ہو تو نبی کے لیے سلامتی کی دعا کرے اور پھر اَللّٰھُمَّ افْتَحْ … کہے۔
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی مسجد میں داخل ہو تو وہ نبی کے لیے سلامتی کی دعا کرے اور پھر یہ دعا پڑے: اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ اور جب نکلے تو پھر نبی پر سلامتی بھیجے اور یہ پڑے: اَللّٰھُمَّ اعْصِمْنِیْ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔ (ابن ماجہ: ۷۷۳)
خلاصۂ کلام: … ان احادیث سے مسجد میں داخل ہوتے وقت کی مندرجہ ذیل مختلف دعائیں ثابت ہوئیں: ٭ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَبِوَجْھِہِ الْکَرِیْمِ وَسُلْطَانِہِ الْقَدِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔
٭ بِسْمِ اللّٰہِ وَالصَّلَاۃُ وَ السَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللَّہِ، اَ للّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ۔
٭ اَلسَّلَامُ عَلٰی نَبِیِّ اللّٰہِ، اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ۔
مسجدسے نکلتے وقت کی مختلف دعائیں: ٭ بِسْمِ اللّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللَّہِ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ فَضْلِکَ۔
٭ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ۔
٭ اَلسَّلَامُ عَلٰی نَبِیِّ اللّٰہِ، اَللّٰھُمَّ اعْصِمْنِیْ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1332
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، دون قوله: ((اللھم اغفر لي ذنوبي)) فحسن۔ أخرجه الترمذي: 314، وابن ماجه: 771 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26416، 26419 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26951»