حدیث نمبر: 1330
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ الْأَلْهَانِيِّ قَالَ: دَخَلَ الْمَسْجِدَ حَابِسُ بْنُ سَعْدٍ الطَّائِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنَ السَّحَرِ وَقَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى النَّاسَ يُصَلُّونَ فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ: مُرَاوِيُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ! أَرْعِبُوهُمْ فَمَنْ أَرْعَبَهُمْ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَأَتَاهُمُ النَّاسُ فَأَخْرَجُوهُمْ، فَقَالَ: إِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُصَلُّونَ مِنَ السَّحَرِ فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عبداللہ بن عامر ألھانی کہتے ہیں: سیّدنا حابس بن سعید طائی رضی اللہ عنہ ، جنھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تھا، سحری کے وقت مسجد میں داخل ہوئے اور دیکھا کہ لوگ مسجد کے اگلے حصہ میں نماز پڑھ رہے ہیں،یہ دیکھ کر وہ کہنے لگے: رب کعبہ کی قسم! یہ لوگ ریاکار ہیں، انہیں ڈراؤ، جس نے انہیں ڈرایا، اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کی۔ یہ سن کر لوگ ان کے پاس گئے اور انہیں باہر نکال دیا، پھر سیّدنا حابس رضی اللہ عنہ نے کہا: سحری کے وقت مسجد کے اگلے حصہ میں فرشتے نماز پڑھتے ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … شرعی نصوص سے اس قسم کی پابندی ثابت نہیں ہوتی کہ سحری کے وقت اگلی صفوں میں نماز نہ پڑھی جائے، ممکن ہے کہ سیّدنا حابس رضی اللہ عنہ کو کچھ قرائن کی بنا پر یہ ظنِّ غالب ہو گیا ہو کہ واقعییہ لوگ ریاکاری کر رہے ہیں، اس لیے ان کو وہاں سے بھگا دینا مناسب سمجھا ہو۔ واللہ اعلم بالصواب
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1330
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اثر صحيح الي حابس بن سعد۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 3564 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16972، 17002 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17127»