الفتح الربانی
أبواب المساجد— مساجد کا بیان
بَابُ فَضْلِ الْجُلُوسِ فِي الْمَسَاجِدِ وَالسَّعْيِ إِلَيْهَا وَفَضْلِ أَهْلِ الدُّوْرِ الْقَرِيبَةِ مِنْهَا باب: مساجد میں بیٹھنے اور ان کی طرف جانے کی فضیلت اور ان سے قریب محلے والوں کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1329
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّجُلَ يَعْتَادُ الْمَسْجِدَ فَاشْهَدُوا عَلَيْهِ بِالْإِيمَانِ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ}))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تم کسی ایسے آدمی کو دیکھو جو مسجد میں آنے جانے کا عادی ہے تو اس پر ایمان کے شاہدبن جاؤ، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اللہ کی مسا جد کو صرف وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور آ خرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … پوری آیتیوں ہے: {اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّٰہِ مَنْ آمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَاَقَامَ الصَّلَاۃَ وَآتَی الزَّکٰوۃَ وَلَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰہَ فَعَسٰی اُولٰٓئِکَ اَنْ یَّکُوْنُوْا مِنَ الْمُھْتَدِیْنَ} (سورۂ توبہ: ۱۸) یعنی: اللہ کی مسجدوں کی رونق کو آبادی تو ان کے حصے میں ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں، نمازوں کے پابند ہوں، زکوۃ دیتے ہوں، اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے ہوں، توقع ہے کہ یہی لوگ یقینا ہدایتیافتہ ہیں۔ مساجد کی انتظامیہ، ائمہ، خطباء اور خُدام کو اپنے منصب پر غور کرنا چاہیے اور مسجد کی آبادی کو اپنی سعادت سمجھ کر عجز و انکساری کے ساتھ اس تسلسل کو برقرار رکھنا چاہیے۔