الفتح الربانی
أبواب المساجد— مساجد کا بیان
بَابُ فَضْلِ الْجُلُوسِ فِي الْمَسَاجِدِ وَالسَّعْيِ إِلَيْهَا وَفَضْلِ أَهْلِ الدُّوْرِ الْقَرِيبَةِ مِنْهَا باب: مساجد میں بیٹھنے اور ان کی طرف جانے کی فضیلت اور ان سے قریب محلے والوں کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1327
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((لَا يُوْطِنُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ الْمَسَاجِدَ لِلصَّلَاةِ وَالذِّكْرِ إِلَّا تَبَشْبَشَ اللَّهُ بِهِ يَعْنِي حِينَ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ كَمَا يَتَبَشْبَشُ أَهْلُ الْغَائِبِ بِغَائِبِهِمْ إِذَا قَدِمَ عَلَيْهِمْ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی مسلمان آدمی نماز اور ذکر کے لیے مساجد کو اپنا ٹھکانہ نہیں بناتا مگر جب وہ اپنے گھر سے نکلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر ایسے خوش ہوتے ہیں جیسا کہ غائب آدمی کے گھر والے اس کی آمد پر خوش ہوتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … یہ اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی ہے کہ بندہ اپنے فائدے کے لیے مسجد کا رخ کرتا ہے، لیکن اس کی آمد پر اللہ تعالیٰ کو خوشی ہوتی ہے۔