حدیث نمبر: 1326
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ لِلْمَسَاجِدِ أَوْتَادًا، الْمَلَائِكَةُ جُلَسَاءُهُمْ إِنْ غَابُوا يَفْتَقِدُونَهُمْ، وَإِنْ مَرِضُوا عَادُوهُمْ، وَإِنْ كَانُوا فِي حَاجَةٍ أَعَانُوهُمْ)) وَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((جَلِيسُ الْمَسْجِدِ عَلَى ثَلَاثِ خِصَالٍ، أَخٌ مُسْتَفَادٌ أَوْ كَلِمَةٌ مُحْكَمَةٌ أَوْ رَحْمَةٌ مُنْتَظَرَةٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کچھ لوگ میخوں کی طرح مسجدوں میں بیٹھے رہتے ہیں، ان کے ہم مجلس فرشتے ہوتے ہیں، اگر وہ غائب ہو جائیں تو فرشتے انہیں تلاش کرتے ہیں، اگر وہ بیمار ہوں تو وہ ان کی بیمار پرسی کرتے ہیں اگر وہ کسی کام میں مصروف ہوں تو وہ ان کی اعانت کرتے ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسجد میں بیٹھنے والا تین خصلتوں پر ہوتا ہے: ایسا بھائی جس سے فائدہ حاصل ہو، یا کوئی محکم بات یا ایسی رحمت جس کا انتظار ہو۔

وضاحت:
فوائد: … آخری جملے کی وجہ یہ ہے کہ مسجد اسلامی بھائیوں کی گزرگاہ ہوتی ہے اور شرعی علوم کے ذکر اور رحمت کے نزول کا محل ہوتا ہے۔ اس لیے جو شخص مسجد میں بیٹھنے کا التزام کرتا ہے، تو وہاں سے گزرنے والے اس سے مستفید ہوتے ہیں، پھر تعلیم و تعلّم اور افتاء و استفتاء کے بہانے حکمت بھری باتیں ہوتی ہیں۔ نوری مخلوق بھی خاکی مخلوق کی خادم بن سکتی ہے، بشرطیکہ اللہ تعالیٰ سے لو لگا لی جائے۔ اس سے بڑھ کر کیا کہا جائے کہ مسجد اللہ تعالیٰ کا گھر ہے، مومنوں کی سجدہ گاہ ہے، وہ کتنی مبارک و مقدس جگہ ہو گی، جہاں برس ہا برس سے اللہ تعالیٰ کی تہلیلات، تسبیحات، تحمیدات اور تکبیرات کا تذکرہ کیا جا رہا ہے، جہاں سالہا سال سے اس کے کلام پاک کی کثرت سے تلاوتیں کی جا رہی ہیں، شیطانوں سے بچنے کے لیے مضبوط قلعہ مسجد ہے۔ جو مسجد سے محبت کرے گا، جو مسجد کو آباد کرنے میں حصہ ڈالے گا، جس کو وہاں سکون نصیب ہو گا، وہ کتنا سعادت مند اور خوش نصیب ہو گا۔
لیکن صد افسوس! امت ِ مسلمہ کی کثرت اس منصب سے کوسوں دور ہے اورنمازیوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ دو چار چار روپے جمع کر کے روایتی ڈیوٹی سر انجام دینے والے بطورِ ملازم ایک امام اور ایک خادم کا اہتمام کر لیا جائے، مسجد کے تقاضے پورے ہو جائیں۔ ایسا کرنے کے بعد کسی نمازی مین یہ رغبت نہیں رہتی کہ وہ مسجد میں جھاڑو پھیر دے، پہلے پہنچ کر اذان دے دے، نمازیوں کے لیے صفیں بچھا دے، وضو کے لیے پانی بھر دے …
اس کے خام دماغ نے فیصلہ کیا اور یہ سمجھ بیٹھا کہ ماہوار پچاس روپے مسجد فنڈ دینے سے وہ بریء الذمہ ہو گیا ہے۔ قارئین کرام! اپنی روز مرہ مصروفیات کا جائزہ لیں اور منصبِ انسانیت اور منصبِ مومنیت کی روشنی میں اپنی حرکات و سکنات کو پرکھیں۔ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((سَبْعَۃٌیُظِلُّھُمُ اللّٰہُ فِیْ ظِلِّہٖیَوْمَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلُّہٗ … وَرَجُلٌقَلْبُہٗمُعَلَّقٌبِالْمَسْجِدِاِذَاخَرَجَمِنْہُحَتّٰییَعُوْدَ اِلَیْہِ …۔)) (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
یعنی: اللہ تعالیٰ سات قسم کے افراد کو اپنے سائے میں جگہ دے گا، جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہو گا: (ان میں سے ایک قسم یہ ہے:) وہ آدمی جو مسجد سے نکلتا ہے تو اس کا دل مسجد کے ساتھ ہی معلق رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ واپس مسجد میں آ جائے۔
لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے گھروں میں نفلی نماز پڑھنے اور قرآن مجید کی تلاوت کرنے کا اہتمام کریں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے گھروں کے بھی کچھ تقاضے ہیں، جب ہم کسی قریبی رشتہ دار کے گھر جانے میں تاخیر کرتے ہیں تو وہ مخصوص انداز میں شکوہ کرتا ہے، شاید اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے بھی ہم سے شکوہ کناں ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1326
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسنادھما ضعيف، ابن لھيعة سيء الحفظ، امام الباني رحمته الله عليه نے اس حديث كو (صحيحه: 3401) ميں ذكر كيا اور كها: جن لوگوں نے اس حديث كو عبد الله بن لهيعه كي وجه سے ضعيف قرار ديا، ان كے ذهن ميںيه نكته نه آسكا كه اس مقام پر اس سے روايت كرنے والے قتيبه بن سعيد مصري هيں اور ان كي روايت عبادله كي طرح صحيح هوتي هے، اور اس حديث كا ايك شاهد بھي سيّدنا عبد الله بن سلام رضي الله عنه سے موقوفا مروي هے، جو كه مرفوع كے حكم ميں هے اور اس ميں ((جَلِيْسُ الْمَسْجِدِ )) كے الفاظ نهيں هيں۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9414»