الفتح الربانی
أبواب المساجد— مساجد کا بیان
بَابُ أَوَّلِ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ وَفَضْلِ بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ باب: زمین میں بنائی جانے والی سب سے پہلی مسجداور مساجد بنانے کی فضیلت
حدیث نمبر: 1322
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا وَلَوْ كَمَفْحَصِ قَطَاةٍ لِبَيْضِهَا بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((جس شخص نے اللہ کے لیے مسجد بنائی ، خواہ وہ فاختہ پرندے کے انڈا دینے کے لیے بیٹھنے والے گھونسلے جتنی کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ بَنٰی مَسْجِدًا لِلّٰہِ کَمَفْحَصِ قَطَاۃٍ اَوْ اَصْغَرَ بَنَی اللّٰہُ لَہٗبَیْتًا فِیْ الْجَنَّۃِ۔)) یعنی: جو شخص فاختہ کے انڈے دینے کی جگہ کے برابر یا اس سے بھی چھوٹی مسجد بنائے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا۔ (ابن ماجہ: ۷۳۸) یقینا اتنی جگہ نماز کے لیے ناکافی ہے، اس لیے ان الفاظ کو مبالغہ پر محمول کیا جائے گا، سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے اس معنی کی تائید ہوتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ایک ضرب المثل ہو اور اس سے مراد چھوٹی سی مسجد ہو، اس سے بڑی مسجد کے اجر و ثواب کا اندازہ سامعین خود کر لیں گے۔ ایک معنییہ بیان کیا گیا ہے کہ مختلف لوگ ایک مسجد کی تعمیر میں حصہ لیتے ہیں اور بعض افراد کا چندہ واقعی اس پرندے کے گھونسلے کی جگہ کی قیمت کے برابر ہوتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اتنی مقدار کی بھی قدر کرتا ہے۔