حدیث نمبر: 1317
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا يُذْكَرُ فِيهِ اسْمُ اللَّهِ تَعَالَى بَنَى اللَّهُ لَهُ بِهِ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اللہ کے لیے ایسی مسجد بنائی جس میں اللہ کا ذکر کیا جائے تو اللہ اس کے لیے اس کے بدلے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔

وضاحت:
فوائد: … مسجد بنانے والے کا جنت میں گھر اس کی بنائی ہوئی مسجد کی مثل ہو گا۔ اس حدیث میں مثل سے کیا مراد ہے؟ مختلف جوابات دیئے گئے ہیں: ۱۔ شرف، فضل اور توقیر میں مماثلت مراد ہے، یعنی مسجد شرف والا گھر ہے، اسی طرح اس کا بدلہ بھی شرف والا ہو گا۔
۲۔ گھر کے مسمّی میں مماثلت مراد ہے، یعنی جیسے اس نے اللہ کا گھر بنایا، اسی طرح اللہ بھی اسے ایک گھر عطا کرے گا، رہا مسئلہ نوعیت و کیفیت و کمیّت کا تو جنت اور دنیا کی چیزوں میں کوئی مماثلت نہیں پائی جاتی، ماسوائے ناموں کے۔
۳۔مماثلت سے مراد مسجد کی دنیوی گھروں پر فضیلت مراد ہے، یعنی جیسے دنیا میں مسجد تمام دوسرے گھروں سے افضل ہوتی ہے، اسی طرح ایسے شخص کا گھر جنت میں اعلی و افضل ہو گا۔
حافظ ابن حجر نے کہا: لفظ مثل کے دو استعمالات ہیں: (۱) مطلق افراد کے لیے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {فَقَالُوْا أَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا} اور(۲) مطابقت کے لیے، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {أُمَمٌ أَمْثَالُکُمْ} اگر پہلے معنی کو سامنے رکھا جائے تو زیادہ عمارتیں بھی ہو سکتی ہیں، اس سے مِثْلَہ پر وارد ہونے والے دس گناہ نیکی والے اشکال کا جواب بھی مل جاتا ہے … بہترین جواب یہ ہے کہ مثلیّت سے مراد کمیّت ہی ہے، لیکن ظاہر بات ہے کہ کیفیت میں جنت والا گھر بہت بہتر ہو گا، کیونکہ کتنے ہی ایسے گھر موجود ہیں، جو بیسیوں بلکہ سینکڑوں گھروں سے بہتر ہوتے ہیںیا پھر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مماثلت سے مراد جنسِ عمارت ہے، یعنی جس نے اللہ تعالیٰ کا گھر تعمیر کیا، اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو بدلے میں گھر ہی عطا کرے گا۔ (فتح الباری: ۱/ ۷۱۸)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب المساجد / حدیث: 1317
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 735، 2758، وابن حبان: 1608، 4628 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 126 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 126»