حدیث نمبر: 13116
وَعَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ نَبِيَّ اللَّهِ أَنْ يَشْفَعَ لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ قَالَ ”أَنَا فَاعِلٌ بِهِمْ“ قَالَ فَأَيْنَ أَطْلُبُكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ ”اطْلُبْنِي أَوَّلَ مَا تَطْلُبُنِي عَلَى الصِّرَاطِ“ قَالَ قُلْتُ فَإِذَا لَمْ أَلْقَكَ عَلَى الصِّرَاطِ قَالَ ”فَأَنَا عِنْدَ الْمِيزَانِ“ قَالَ قُلْتُ فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ عِنْدَ الْمِيزَانِ قَالَ ”فَأَنَا عِنْدَ الْحَوْضِ لَا أُخْطِئُ هَذِهِ الثَّلَاثَ مَوَاطِنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا انس بن مالک سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کر یم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کی کہ قیامت کے دن آپ میرے حق میں سفارش کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی میں قیامت کے دن لوگوں کے حق میں شفاعت کروں گا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے نبی! میں اس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہاں تلاش کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مجھے سب سے پہلے پل صراط پر تلاش کرنا۔ میں نے کہا: اگر آپ سے میری ملاقات پل صراط پر نہ ہو سکے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: توپھر میزان کے پاس مجھے تلاش کرنا۔ میں نے کہا: اگر میزان کے پاس بھی میں آپ کو نہ پا سکوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر میں حوض کو ثر کے پاس ہوں گا، قیامت کے دن میں ان تین مقامات میں سے کسی ایک پر ہی ہوں گا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة / حدیث: 13116
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني، أخرجه الترمذي: 2433، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12825 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12856»