الفتح الربانی
بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة— قیامت کے دن گنہگاروں کے حق میں شفاعت کا بیان
طَلْبُ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم شَفَاعَتَهُ لَهُمْ وَشَفَاعَتُهُ ﷺ لِكُلِّ مَنْ مَاتَ لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا باب: بعض صحابہ کا نبی کر یم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے حق میں شفاعت کی درخواست کرنااور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہر اس شخص کے حق میں سفارش کرنا، جس کو اس حال میں موت آئی ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو
حدیث نمبر: 13115
وَعَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى بَنِي مَخْزُومٍ عَنْ خَادِمٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٍ أَوِ امْرَأَةٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يَقُولُ لِلْخَادِمِ ”أَلَكَ حَاجَةٌ“ قَالَ حَتَّى كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَاجَتِي قَالَ ”وَمَا حَاجَتُكَ“ قَالَ حَاجَتِي أَنْ تَشْفَعَ لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ ”وَمَنْ دَلَّكَ عَلَى ذَلِكَ“ قَالَ رَبِّي قَالَ ”إِمَّا لَا فَأَعِنِّي بِكَثْرَةِ السُّجُودِ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
نبی کر یم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک خادم یا خادمہ بیان کرتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خادم سے پوچھا کرتے تھے کہ: آیا تمہاری کوئی حاجت ہے؟ ایک دن ایسے ہو ا کہ خادم نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری ایک ضرورت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: وہ کون سی؟ اس نے کہا: میری حاجت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیامت کے دن میرے حق میں شفاعت فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تمہیں اس کے بارے میں کس نے بتلایا ہے؟ اس نے کہا: میرے ربّ نے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہی بات ہے تو تم کثرتِ سجود کے ساتھ میری اعانت کرو۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ جو لوگ اپنے حق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سفارش کا شرف حاصل کرنے کے خواہشمند ہوں، ان کو چاہیے کہ وہ نیک اعمال بھی کریں۔