الفتح الربانی
بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة— قیامت کے دن گنہگاروں کے حق میں شفاعت کا بیان
طَلْبُ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم شَفَاعَتَهُ لَهُمْ وَشَفَاعَتُهُ ﷺ لِكُلِّ مَنْ مَاتَ لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا باب: بعض صحابہ کا نبی کر یم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے حق میں شفاعت کی درخواست کرنااور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہر اس شخص کے حق میں سفارش کرنا، جس کو اس حال میں موت آئی ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَقَدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً أَصْحَابُهُ وَكَانُوا إِذَا نَزَلُوا أَنْزَلُوهُ أَوْسَطَهُمْ فَفَزِعُوا وَظَنُّوا أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى اخْتَارَ لَهُ أَصْحَابًا غَيْرَهُمْ فَإِذَا هُمْ بِخَيَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرُوا حِينَ رَأَوْهُ وَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَشْفَقْنَا أَنْ يَكُونَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى اخْتَارَ لَكَ أَصْحَابًا غَيْرَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا بَلْ أَنْتُمْ أَصْحَابِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَيْقَظَنِي فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ نَبِيًّا وَلَا رَسُولًا إِلَّا وَقَدْ سَأَلَنِي مَسْأَلَةً أَعْطَيْتُهَا إِيَّاهُ فَاسْأَلْ يَا مُحَمَّدُ تُعْطَ فَقُلْتُ مَسْأَلَتِي شَفَاعَةٌ لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ“ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَمَا الشَّفَاعَةُ قَالَ ”أَقُولُ يَا رَبِّ شَفَاعَتِي الَّتِي اخْتَبَأْتُ عِنْدَكَ فَيَقُولُ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى نَعَمْ فَيُخْرِجُ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى بَقِيَّةَ أُمَّتِي مِنَ النَّارِ فَيَنْبِذُهُمْ فِي الْجَنَّةِ“سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، صحابہ کرام نے ایک رات نبی کر یم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی جگہ سے گم پایا، ان کا معمول یہ تھا کہ جب وہ کسی مقام پر ٹھہرتے تو رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آرام گاہ اپنے درمیان بناتے، انھوں نے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی جگہ پر نہ پایا تو وہ گھبرا گئے اور انہوں نے سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لیے ان کے علاوہ دوسرے لوگوں کو بطورِ ساتھی منتخب کر لیا ہے (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے ہیں)۔ سو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے، پھر جب انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کودیکھا تو خوشی سے اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا، پھر انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمیں تو یہ اندیشہ ہوگیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہمارے علاوہ دوسرے لوگوں کو آپ کا ساتھی بنا دیا ہے (یعنی آپ فوت ہو گئے ہیں)۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، ایسی کوئی بات نہیں ہے اور دنیا و آخرت میں تم ہی میرے صحابہ ہو، بات یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بیدار کر کے فرمایا: اے محمد! میں نے جتنے بھی رسول اور نبی مبعوث کیے، ہر ایک نے مجھ سے ایک ایک ایسی دعا کی کہ میں نے ہر صورت میں اس کی وہ دعا قبول کی،اے محمد! آپ بھی کوئی دعا کریں، وہ ضرور قبول ہوگی، تو میں نے عر ض کیا کہ میری دعا قیامت کے دن امت کے حق میں شفاعت ہوگی۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: شفاعت سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں کہوں گا کہ اے میرے رب! میری وہ سفارش جو میں نے تیرے پاس پوشیدہ کر کے رکھ دی تھی؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ہاں،پھر اللہ تعالیٰ اس سفارش کی وجہ سے میری بقیہ امت کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کر دے گا۔