حدیث نمبر: 1311
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أُرِيَ الْأَذَانَ قَالَ: فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: ((أَلْقِهِ عَلَى بِلَالٍ)) فَأَلْقَيْتُهُ فَأَذَّنَ، قَالَ: فَأَرَادَ أَنْ يُقِيمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنَا رَأَيْتُ، أُرِيدُ أَنْ أُقِيمَ، قَالَ: ((فَأَقِمْ أَنْتَ)) فَأَقَامَ هُوَ وَأَذَّنَ بِلَالٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے اذان کا خواب دیکھا، وہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آکر بتایا، لیکن آپ نے فرمایا: یہ کلمات بلال کو سکھا۔ پس میں نے وہ سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کو سکھائے، پھر انہوں نے اذان کہی ،جب سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنے کا ارادہ کیا تو میں نے کہا: اللہ کے رسول ! خواب میں نے دیکھا ہے ، اس لیے میرا ارادہ ہے کہ اقامت تو میں کہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: (ٹھیک ہے) تو ہی اقامت کہہ لے۔ پس سیّدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اقامت کہی، جبکہ سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی تھی۔

وضاحت:
فوائد: … مؤذن کو ہی چاہیے کہ وہی اقامت کہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک مین یہی عمل رائج تھا اور اسی سے نظم و ضبط برقرار رہتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کوئی دوسرا آدمی بھی اقامت کہہ سکتا ہے۔ جن قولی احادیث میں اقامت کو مؤذن کے ساتھ خاص کیا گیا ہے یا دوسرے کو کہنے کی اجازت دی گئی ہے، وہ ضعیف ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1311
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ابي سھل محمد بن عمرو الانصاري الواقفي، وقد اختلف في اسناده۔ أخرجه ابوداود: 512، 513 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16476 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16590»