الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
بَابُ فِي الْفَصْلِ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ وَمَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ باب: اذان اور اقامت کے درمیان وقفہ کرنے کا بیان اورجو اذان کہے وہی اقامت کہے
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أُرِيَ الْأَذَانَ قَالَ: فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: ((أَلْقِهِ عَلَى بِلَالٍ)) فَأَلْقَيْتُهُ فَأَذَّنَ، قَالَ: فَأَرَادَ أَنْ يُقِيمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنَا رَأَيْتُ، أُرِيدُ أَنْ أُقِيمَ، قَالَ: ((فَأَقِمْ أَنْتَ)) فَأَقَامَ هُوَ وَأَذَّنَ بِلَالٌسیّدنا عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے اذان کا خواب دیکھا، وہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آکر بتایا، لیکن آپ نے فرمایا: یہ کلمات بلال کو سکھا۔ پس میں نے وہ سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کو سکھائے، پھر انہوں نے اذان کہی ،جب سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنے کا ارادہ کیا تو میں نے کہا: اللہ کے رسول ! خواب میں نے دیکھا ہے ، اس لیے میرا ارادہ ہے کہ اقامت تو میں کہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: (ٹھیک ہے) تو ہی اقامت کہہ لے۔ پس سیّدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اقامت کہی، جبکہ سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی تھی۔