الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
بَابُ فِي الْفَصْلِ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ وَمَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ باب: اذان اور اقامت کے درمیان وقفہ کرنے کا بیان اورجو اذان کہے وہی اقامت کہے
حدیث نمبر: 1310
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَذِّنْ يَا أَخَا صُدَائٍ!)) قَالَ: فَأَذَّنْتُ وَذَلِكَ حِينَ أَضَاءَ الْفَجْرُ، قَالَ: فَلَمَّا تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَرَادَ بِلَالٌ أَنْ يُقِيمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يُقِيمُ أَخُو صُدَائٍ، فَإِنَّ مَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا زیاد بن حارث رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو فرمایا: صدا کے بھائی ! اذان کہو۔ زیاد کہتے ہیں: پس میں نے اذان کہی ، اور یہ اس وقت کی بات ہے جب فجر روشن ہوئی تھی ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کرکے نماز کے لیے اٹھے تو سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنا چاہی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صدائی اقامت کہے کیونکہ جو اذان کہتاہے، و ہی اقامت کہتا ہے۔