حدیث نمبر: 1302
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُؤَذِّنَانِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دو مؤذن تھے۔

وضاحت:
فوائد: … ان روایات سے معلوم ہوا کہ طلوع فجر سے پہلے یعنی رات والی اذان سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ اور طلوع فجر کے بعد والی اذان سیّدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ دیا کرتے تھے، لیکن ان کییہ باریاں تبدیل بھی ہوتی رہتی تھیں اور بسا اوقات سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ طلوع فجر کے بعد والی اذان دیا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں نماز ِ فجر کی اذان سے پہلے بھی ایک اذان دی جاتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اس اذان کا مقصد بیان کر دیاہے کہ قیام کرنے والے بس کر دیں اور سونے والے بیدار ہو جائیں، بہرحال ان دو اذانوں میں اتنا وقفہ ہونا چاہیے کہ سحری کا آسانی سے بند و بست کیا جا سکے، جیسا کہ سیّدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کی اذان ہو چکنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَا اَنَسُ! اِنِّیْ اُرِیْدُ الصِّیَامَ، اَطْعِمْنِیْ شَیْئًا۔)) یعنی: انس! میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں، کوئی چیز کھلاؤ۔ میں کھجور اور ایک برتن میں پانی لے کر آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انس! کسی آدمی کو تلاش کرو، جو میرے ساتھ کھانا کھائے۔ میں سیّدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو تلاش کر کے لایا۔ انھوں نے آ کر کہا: میں نے ستو پیا ہے اور میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں بھی روزہ رکھنا چاہتا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سحری کی، پھر کھڑے ہوئے اور دو رکعتیں پڑھیں اور پھر نماز کے لیے چلے گئے۔ (نسائی: ۲۱۶۷) یہ نفلی روزے کا واقعہ ہے، اس سے معلوم ہوا کہ رمضان کے علاوہ بھی سحری کے وقت اذان دی جاتی تھی،یہ رمضان کے ساتھ خاص نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1302
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 222 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5686 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5686»