الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
بَابُ الْأَذَانِ فِي أَوَّلِ الْوَقْتِ وَتَقْدِيمِهِ عَلَيْهِ فِي الْفَجْرِ خَاصَّةً باب: اول وقت میں اذان کہنے اور صرف فجر میں وقت سے پہلے اذان کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 1301
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ بِلَالًا يُنَادِي بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى تَسْمَعُوا تَأْذِينَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ)) قَالَ: وَكَانَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ رَجُلًا أَعْمَى لَا يُبْصِرُ، لَا يُؤَذِّنُ حَتَّى يَقُولَ النَّاسُ: قَدْ أَصْبَحْتَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلال رات کے وقت اذان کہتا ہے، اس لیے تم کھاتے پیتے رہا کرویہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سن لو۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابن ام مکتوم ایک نابینا آدمی تھے، اس لیے وہ اس وقت تک اذان نہیں کہتے تھے جب تک لوگ اسے یہ نہ کہہ دیتے کہ تو نے صبح کردی ہے ۔