الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
بَابُ الْأَذَانِ فِي أَوَّلِ الْوَقْتِ وَتَقْدِيمِهِ عَلَيْهِ فِي الْفَجْرِ خَاصَّةً باب: اول وقت میں اذان کہنے اور صرف فجر میں وقت سے پہلے اذان کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 1298
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ لَا يَخْرُمُ ثُمَّ لَا يُقِيمُ حَتَّى يَخْرُجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَإِذَا خَرَجَ أَقَامَ حِينَ يَرَاهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ سورج ڈھلتے وقت اذان کہاکرتے تھے اور اس کا کوئی لفظ نہیں چھوڑتے تھے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نکلنے تک اقامت نہ کہتے، البتہ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلتے تو آپ کو دیکھ کر اقامت کہتے۔