الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
بَابُ مَا يَقُولُ الْمُسْتَمِعُ عِنْدَ سَمَاعِ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ وَبَعْدَ الْأَذَانِ باب: آدمی اذان اور اقامت سنتے وقت اور اذان کے بعد کیا کہے
حدیث نمبر: 1291
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِتَلَعَاتِ الْيَمَنِ فَقَامَ بِلَالٌ يُنَادِي فَلَمَّا سَكَتَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ هَٰذَا يَقِينًا دَخَلَ الْجَنَّةَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ یمن کے بلند ٹیلوں پر تھے، سیّدنابلال رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر اذان کہنے لگے، جب وہ اذان سے فارغ ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے یقین کے ساتھ اسی طرح (یہ کلمات) کہے، جو اس (بلال) نے کہے تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مؤذن کے کلمات کا جواب صدقِ دل اور توجہ کے ساتھ دینا چاہیے۔