الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
بَابُ مَا يَقُولُ الْمُسْتَمِعُ عِنْدَ سَمَاعِ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ وَبَعْدَ الْأَذَانِ باب: آدمی اذان اور اقامت سنتے وقت اور اذان کے بعد کیا کہے
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِذَا سَمِعْتُمْ مُؤَذِّنًا فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ، ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا ثُمَّ سَلُوا لِيَ الْوَسِيلَةَ فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ، فَمَنْ سَأَلَ لِيَ الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ عَلَيْهِ الشَّفَاعَةُ))سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم مؤذن کو سنو تو جیسے وہ کہتا ہے ویسے تم بھی کہتے رہو، پھر مجھ پر درود بھیجو کیونکہ جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے، بعد ازاں میرے لیے وسیلہ کا سوال کرو، کیونکہ یہ جنت کے اندر ایک ایسا مرتبہ ہے جو اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندے کے لیے ہی مناسب ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں، جس شخص نے میرے لیے وسیلہ کا سوال کیا اس کے لیے میری سفارش حلال ہو جائے گی۔