حدیث نمبر: 1287
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ: وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبَّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مؤذن کو سن کر یہ دعا پڑھی: ((وَأَنَا أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ رَضِینَا باِللّٰہِ رَبَّا وَّبِمُحَمَّدٍ رَّسُوْلًا وَّبِا لإِْ سْلَامِ دِیْناً۔)) اور میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اور یہ گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، ہم اللہ کے رب ہونے پر، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رسول ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر خوش ہیں۔ … تو اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … یہ دعا کب پڑھی جائے؟ حدیث ِ مبارکہ کے الفاظ مین یہ احتمال پایا جاتا ہے کہ پہلا اشھد ان لا الہ الا اللہ مراد ہے یا آخری لا الہ الا اللہ۔ مؤخر الذکر بات زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے، کیونکہ اذان کے بیچ میں تو اذان کے کلمات کا جواب دیا جائے گا۔ قارئین غور سے متن پڑھ کر مناسب صورت پر عمل کر لیں، ان شاء اللہ اجر مل جائے گا۔ واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1287
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 384، وابوداود: 523، والترمذي: 3614، والنسائي: 2/ 25 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1287»