الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
بَابُ مَا يَقُولُ الْمُسْتَمِعُ عِنْدَ سَمَاعِ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ وَبَعْدَ الْأَذَانِ باب: آدمی اذان اور اقامت سنتے وقت اور اذان کے بعد کیا کہے
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُبَيِّعَةَ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَسَمِعَ مُؤَذِّنًا يَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ)) قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَشْهَدُ أَنِّي مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ)) فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((تَجِدُونَهُ رَاعِيَ غَنَمٍ أَوْ عَازِبًا عَنْ أَهْلِهِ)) فَلَمَّا هَبَطَ الْوَادِي قَالَ: مَرَّ عَلَى سَخْلَةٍ مَنْبُوذَةٍ فَقَالَ: ((أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَيِّنَةً عَلَى أَهْلِهَا؟ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا))سیّدنا عبد اللہ بن ربیعہ سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مؤذن کو أَشْہَدُأَنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ کہتے ہوئے سن کر أَشْہَدُأَنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ کہا، پھر اس نے أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے أَشْہَدُ أَنِّیْ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کہا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے بکریوں کا چرواہا یا اپنے گھر والوں سے دور نکلنے والا پاؤ گے۔ عبد اللہ بن ربیعہ کہتے ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادی میں اُترے تو بکری کے ایک (مردار) بچے کے پاس سے گزرے جسے پھینک دیا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس کو اس کے مالکوں کے ہاں حقیر خیال کرتے ہو؟ (تبھی تو انھوں نے اسے پھینک دیا)۔ یقینایہ دنیا اللہ کے ہاں مالکوں پر اس بچے سے بھی زیادہ حقیر ہے۔