الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
بَابُ صِفَةِ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ وَعَدَدِ كَلِمَتِهِمَا وَقِصَّةِ أَبِي مَحْذُورَةَ باب: اذان اور اقامت کا طریقہ اور دونوں کے کلمات کی تعداد اور ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کے واقعہ کا بیان
حدیث نمبر: 1279
عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ (أَبِي جُحَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: رَأَيْتُ بِلَالًا يُؤَذِّنُ وَيَدُورُ وَأَتَتَبَّعُ فَاهُ هَاهُنَا وَهَاهُنَا (زَادَ فِي رِوَايَةٍ يَعْنِي يَمِينًا وَشِمَالًا وَإِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ)ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کہتے ہوئے دیکھا کہ وہ (حی علی الصلاۃ اور حی علی الفلاح کہتے وقت) گھوم رہے تھے اور میں ان کے منہ کو اِدھر اُدھرہوتا ہوا دیکھ رہا تھا۔ ایک روایت میں مزید فرمایا: کہ دائیں بائیں گھوم رہے تھے او راپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں رکھے ہوئے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … سنن ابو داود کی روایت مین یہ الفاظ ہیں: لَوّٰی عُنُقَہٗیَمِیْنًا وَ شِمَالًا وَلَمْ یَسْتَدِرْ (اپنی گردن کو دائیں بائیں پھیرا اور خود پورے نہیں گھومے)۔ لیکن امام البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا کہ ولم یستدر کے الفاظ شاذ بلکہ منکر ہیں، کیونکہ اس کی سند میں قیس بن ربیع ضعیف ہے۔ احادیث ِ مبارکہ میں صرف چہرے اور گردن کے پھیرنے کا ذکر ہے۔ ہاں اگر مؤذن کی گردن گھومنے کے ساتھ جسم بھی گھوم جائے تو اس میں ان شاء اللہ شرعاً کوئی قباحت نہ ہو گی۔ واللہ اعلم۔