حدیث نمبر: 1277
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوْتِرَ الْإِقَامَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کے دو دو کلمے کہنے کا او راقامت کا ایک ایک کلمہ کہنے کا حکم کیا گیا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … درج بالا روایات پر غور کریں، اذان و اقامت کی دو دو صورتیں بیان کی گئی ہیں: (۱) ترجیع والی اذان اور اس کے ساتھ اقامت کے دو دو کلمات: ترجیع والی اذان کہنا بھی سنت ہے، جس میں اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اور اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ چار چار دفعہ کہا جاتا ہے۔ (مسلم)
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کو ترجیع والی اذان سکھائی تو اس کے ساتھ اقامت کے دو دو کلمات کی تعلیم دی۔ (ابوداود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1277
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 605، 607، ومسلم: 378 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:12024، 12971 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12024»