حدیث نمبر: 1272
عَنِ السَّائِبِ مَوْلَى أَبِي مَحْذُورَةَ وَأُمِّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ أَنَّهُمَا سَمِعَا مِنْ أَبِي مَحْذُورَةَ فَذَكَرَ نَحْوَ الْحَدِيثِ الْمُتَقَدِّمِ مُخْتَصَرًا وَفِيهِ ذِكْرُ التَّكْبِيرِ الْأَوَّلِ أَرْبَعًا وَزَادَ فِيهِ قَوْلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((وَإِذَا أَذَّنْتَ بِالْأَوَّلِ مِنَ الصُّبْحِ فَقُلْ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، وَإِذَا أَقَمْتَ فَقُلْهَا مَرَّتَيْنِ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، أَسَمِعْتَ؟)) قَالَ: وَكَانَ أَبُو مَحْذُورَةَ لَا يَجِزُّ نَاصِيَتَهُ وَلَا يَفْرِقُهَا لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَيْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سائب مولی ابی محذورہ او رام عبد الملک بن ابی محذورہ دونوں نے سیّدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، راوی نے ذرا اختصار کے ساتھ سابقہ حدیث کی طرح روایت بیان کی، البتہ اس میں پہلی تکبیر کے چار مرتبہ کہنے کا ذکر ہے اور اس میں مزید نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان مذکور ہے: جس وقت تو صبح کی پہلی اذان کہے تو اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ، اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ کہنا اور جب تو اقامت کہے تو دو مرتبہ قَدْقَامَتِ الصَّلَاۃُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ کہنا، کیا تو نے سن لیا ہے؟ سائب کہتے ہیں: سیّدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ اپنی پیشانی کے بال کاٹتے تھے نہ ان میں مانگ نکالتے تھے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر ہاتھ پھیرا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … یہ سیّدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کا ایک انداز تھا کہ اس کے جن بالوں پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مبارک ہاتھ لگا تھا، اس نے ان کو کاٹنا یا ان کو ان کی ہیئت سے ہٹانا بھی گوارہ نہ کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1272
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح بطرقه۔ أخرجه ابوداود: 501، وابن خزيمة: 385 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15376 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15450»