حدیث نمبر: 1270
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا أَبُو قَطَنٍ قَالَ: ذَكَرَ رَجُلٌ لِشُعْبَةَ الْحَكَمَ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ بِلَالٍ قَالَ: فَأَمَرَنِي أَنْ أُثَوِّبَ فِي الْفَجْرِ، وَنَهَانِي عَنِ الْعِشَاءِ، فَقَالَ شُعْبَةُ: وَاللَّهِ مَا ذَكَرَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى، وَلَا ذَكَرَ إِلَّا إِسْنَادًا ضَعِيفًا، قَالَ أَظُنُّ شُعْبَةَ قَالَ: كُنْتُ أُرَاهُ رَوَاهُ عَنْ عِمْرَانِ بْنِ مُسْلِمٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ایک اور سند کے ساتھ مروی حدیث یہ ہے: سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ فجر میں اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کہوں اور عشا سے منع فرما دیا۔

وضاحت:
فوائد: … کوئی شک نہیں کہ اذان فجر میں اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کہنے کا آغاز عہد نبوی میں ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے ہو گیا تھا، بعض دلائل کا ذکر اس باب میں موجود ہے اور بعض کا ذکر آئندہ آئے گا، کچھ مرویات درج ذیل ہیں: سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ((مِنَ السُّنَّۃِ اِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ فِیْ الْفَجْرِ حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ قَالَ: اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ۔)) یعنی: سنت یہ ہے کہ مؤذن اذانِ فجر میں حی علی الفلاح کے بعد اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کہے۔ (صحیح ابن خزیمہ، دارقطنی، بیہقی) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کو اذان سکھلائی تو اسے فرمایا: ((فَاِنْ کَانَ صَلَاۃُ الصُّبْحِ قُلْتَ:اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ، اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ۔)) یعنی: جب نمازِ فجر (کی اذان ہو تو) اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ، اَلصَّلَاۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کہنا ہے۔ (ابوداود: ۵۰۰)
مطلبیہ ہے کہ یہ الفاظ الصلوۃ خیر من النوم فجر کی اذان میں کہنے کا حکم دیا اور عشاء کی اذان مین یہ کہنے سے روک دیا جیسا کہ دیگر احادیث میں آ رہا ہے کہ آپ نے یہ الفاظ فجر کی اذان میں کہنے کا حکم دیا۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1270
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 208، والبيھقي: 1/ 424، وانظر ما قبله ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23914 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24411»