حدیث نمبر: 1265
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَاةَ وَلَيْسَ يُنَادِي بِهَا أَحَدٌ، فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ قَرْنًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ، فَقَالَ عُمَرُ: أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا بِلَالُ! قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

نافع سے روایت ہے کہ سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب مسلمان مدینہ میں آئے تو نماز کے وقت کا اندازہ لگا کر اکٹھے ہوا کرتے تھے، کوئی نماز کے لیے اذان نہیں کہا کرتا تھا ۔ ایک دن لوگوں نے اس کے متعلق بات چیت کی، کسی نے یہ مشورہ دیا کہ عیسائیوں کی ناقوس جیسی ناقوس بنا لو اور بعض نے کہا کہ یہودیوں کے قرن جیسا قرن بنا لیتے ہیں، لیکن سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ تم لوگ (نماز کے وقت) ایک ایسے آدمی کو کیوں نہیں بھیج دیا کرتے جو نماز کے لیے اعلان کر دے گا۔ (یہ رائے پسندیدہ تھی اس لیے)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلال! کھڑے ہو جاؤ اور نماز کے لیے اعلان کرو۔

وضاحت:
فوائد: … ناقوس: عیسائی لوگ اپنی نمازوں کے اوقات کا اعلان کرنے کے لیے ایک لمبی لکڑی پر چھوٹی لکڑی مارتے ہیں، اسے ناقوس کہتے ہیں۔
قرن(بوق): اس میں ایک طرف سے پھونک مارنے سے دوسری طرف سے آواز نکلتی ہے، نمازوں کے اوقات کی خبر دینے کا یہیہودیوں کا انداز تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1265
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 604، و مسلم: 377 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6357 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6357»