الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
بَابُ الْأَمْرِ بِرَفْعِ الصَّوْتِ بِالْآذَانِ وَفَضْلِهِ وَاسْتِجَابَةِ الدُّعَاءِ بَيْنَ الْآذَانِ وَالْأَقَامَةِ وَهُرُوبِ الشَّيْطَانِ عِنْدَ سَمَاعِهَا باب: بلند آواز سے اذان کہنے کے حکم، اس کی فضیلت اور اذان واقامت کے درمیان دعا کی قبولیت اور اذان و اقامت سن کر شیطان کے بھاگ جانے کا بیان
حدیث نمبر: 1264
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَاسْتُجِيبَ الدُّعَاءُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے بلایا جاتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دعا قبول ہو جاتی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … نماز کے لیے بلانے سے مراد اذان ہے، اس حدیث کے درج ذیل شاہد سے اسی معنی کی تائید ہوتی ہے: سیّدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَا نُوْدِیَ بِالصَّلَاۃِ فُتِحَتْ اَبْوَابُ السَّمَائِ وَاسْتُجِیْبَ الدُّعَائُ۔)) یعنی: جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دعا قبول کی جاتی ہے۔ (أخرجہ الطیالسی: ۲۱۰۶، وابو یعلی: ۴۰۷۲، والطبرانی فی الدعا: ۴۸۵، والبغوی: ۴۲۸ باسنادین ضعیفین)