الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
بَابُ الْأَمْرِ بِرَفْعِ الصَّوْتِ بِالْآذَانِ وَفَضْلِهِ وَاسْتِجَابَةِ الدُّعَاءِ بَيْنَ الْآذَانِ وَالْأَقَامَةِ وَهُرُوبِ الشَّيْطَانِ عِنْدَ سَمَاعِهَا باب: بلند آواز سے اذان کہنے کے حکم، اس کی فضیلت اور اذان واقامت کے درمیان دعا کی قبولیت اور اذان و اقامت سن کر شیطان کے بھاگ جانے کا بیان
حدیث نمبر: 1262
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ هَرَبَ الشَّيْطَانُ حَتَّى يَكُونَ بِالرَّوْحَاءِ)) وَهِيَ مِنَ الْمَدِينَةِ ثَلَاثُونَ مِيلًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب مؤذن اذان کہتا ہے تو شیطان بھاگ جاتا ہے، یہاں تک کہ روحاء مقام تک پہنچ جاتا ہے، اور یہ مقام مدینہ سے تیس میل کے فاصلہ پر ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اذان، اللہ تعالیٰ کی کبریائی و بڑائی، وحدانیت و یکتانیت اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت و نبوت کی شہادتوں اور لوگوں کے لیے خیر وفلاح کی دعوتوں پر مشتمل ہے، جب یہ اثر انگیز الفاظ شیطان کے کانوں میں پڑتے ہیں تو وہ بے برداشتہ اور دل برداشتہ ہو کر بھاگ پڑتا ہے اور ایسے مقام تک پہنچ کر سکون کی سانس لیتا ہے، جہاں اسلام کے عظیم شعار کے عظیم کلمات سنائی نہ دیتے ہوں۔