حدیث نمبر: 1261
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا سَمِعَ الشَّيْطَانُ الْمُنَادِيَ يُنَادِي بِالصَّلَاةِ وَلَّى وَلَهُ ضَرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ الصَّوْتَ، فَإِذَا فَرَغَ رَجَعَ فَوَسْوَسَ فَإِذَا أَخَذَ فِي الْإِقَامَةِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

اور انہی سے ایک دوسری سند سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب شیطان مؤذن کو اذان کہتے ہوئے سنتا ہے تو گوز مارتا ہوا اتنا دور چلا جاتا ہے کہ آواز نہ سن سکے، جب مؤذن فارغ ہو جاتا ہے تو وہ واپس آ کر وسوسہ ڈالنا شروع کر دیتا ہے۔ پھر جب مؤذن اقامت کہنا شروع کرتا ہے تو شیطان اسی طرح کرتا ہے، (یعنی بھاگ جاتا ہے)۔

وضاحت:
فوائد: … شیطان کی اس کیفیت کا سبب شدت ِ خوف اور ہیبت ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اذان کے کلمات سنی ان سنی کرنے کے لیےیا اذان کی توہین کرنے کے لیے جان بوجھ کر یہ کیفیت اختیار کرتا ہو۔ شیطان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ نماز کو نمازی پر خلط ملط کر دیا جائے، جب سیّدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے شیطان کے وسوسوں سے متعلقہ یہی شکایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس شیطان کو خنزب کہتے ہیں، جب تو اسے محسوس کرے تو اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کر اور اپنی بائیں جانب تین بار تھوک۔ میں نے ایسے ہی کیا، پس اللہ تعالیٰ نے اسے مجھ سے دور کر دیا۔ (مسلم: ۲۲۰۳) معلوم ہوا کہ جب شیطان نماز میں وسوسہ ڈالنے کی کوشش کرے تو أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ پڑھ کر بائیں جانب تین دفعہ تھوک دیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1261
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 389 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9170 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9159»