الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
بَابُ الْأَمْرِ بِرَفْعِ الصَّوْتِ بِالْآذَانِ وَفَضْلِهِ وَاسْتِجَابَةِ الدُّعَاءِ بَيْنَ الْآذَانِ وَالْأَقَامَةِ وَهُرُوبِ الشَّيْطَانِ عِنْدَ سَمَاعِهَا باب: بلند آواز سے اذان کہنے کے حکم، اس کی فضیلت اور اذان واقامت کے درمیان دعا کی قبولیت اور اذان و اقامت سن کر شیطان کے بھاگ جانے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا نُودِيَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ التَّأْذِينَ فَإِذَا قُضِيَ التَّأْذِينُ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ بِهَا أَدْبَرَ حَتَّى إِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطُرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ فَيَقُولُ لَهُ: اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا، لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ مِنْ قَبْلُ حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ إِنْ يَدْرِي كَمْ يُصَلِّي))سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب نماز کے لیے اذان کہی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا اتنی دور بھاگ جاتا ہے کہ اذان نہیں سنتا ، جب اذان پوری ہو جاتی ہے تو واپس آ جاتا ہے، پھر جب نماز کے لیے اقامت کہی جاتی ہے تو بھاگ جاتا ہے، جب اقامت مکمل ہو جاتی ہے تو واپس آ جاتا ہے اور انسان اور اس کے نفس کے درمیان حائل ہو کر وسوسہ ڈالنا شروع کر دیتا ہے ۔وہ (نمازی کو) کہتا ہے: تو فلاں کام یاد کر ، فلاں کام یاد کر، وہ کام جو اسے پہلے یاد نہیں ہوتے(وہ یاد کراتا ہے)، نتیجتاً آدمی ایسی حالت میں ہو جاتا ہے کہ اسے پتہ نہیں رہتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ہے۔