الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
بَابُ الْأَمْرِ بِرَفْعِ الصَّوْتِ بِالْآذَانِ وَفَضْلِهِ وَاسْتِجَابَةِ الدُّعَاءِ بَيْنَ الْآذَانِ وَالْأَقَامَةِ وَهُرُوبِ الشَّيْطَانِ عِنْدَ سَمَاعِهَا باب: بلند آواز سے اذان کہنے کے حکم، اس کی فضیلت اور اذان واقامت کے درمیان دعا کی قبولیت اور اذان و اقامت سن کر شیطان کے بھاگ جانے کا بیان
حدیث نمبر: 1259
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ قَالَ لَهُ: إِنِّي أَرَاكَ تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِيَةَ فَإِذَا كُنْتَ فِي غَنَمِكَ أَوْ بَادِيَتِكَ فَأَذَّنْتَ بِالصَّلَاةِ فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالنِّدَاءِ فَإِنَّهُ لَا يَسْمَعُ مَدَّ صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلَا شَيْءٌ إِلَّا شَهِدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اور انہی ابو صعصعہ سے ایک دوسری سند سے مروی ہے کہ سیّدنا ابو سعید نے کہا: جب تو اپنی بکریوں یا جنگل میں ہو اور نماز کے لیے اذان کہے تو اذان میں اپنی آواز کو بلند کیا کر، کیونکہ مؤذن کی آواز کی انتہا تک جو بھی جن، انسان اور کوئی چیز سنتی ہے، وہ قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دے گی۔ میں نے یہ الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنے تھے۔