حدیث نمبر: 1256
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ((اَلْمُؤَذِّنُوْنَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسلم) سب سے لمبی گردنوں والے مؤذن لوگ ہوں گے کا مفہوم کیا ہے؟ مختلف اقوال بیان کیے گئے ہیں، اگر اس کو حقیقی معنی پر ہی محمول کر لیا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا، کیونکہ آج بھی مناسب حد تک گردن کا لمبا ہونا حسنکی علامت ہے۔مزید کچھ مفاہیم درج ذیل ہیں: کثیر اجرو ثواب والے
سب سے زیادہ اعمال والے
یہ الفاظ ان کی سرداری سے کنایہ ہیں، کیونکہ عرب لوگ سیادت کو لمبی گردنوں سے تعبیر کرتے رہتے ہیں۔ان سے مرادیہ ہے کہ ان کو فرحت و مسرت نصیب ہو گی اور وہ ندامت و پشیمانی سے محفوظ رہیں گے۔ جب لوگوں کے منہوں تک پسینہ پہنچے گا تو مؤذنوں کی گردنیں لمبی ہو جائیں گی، تاکہ وہ اس کرب و اذیت سے محفوظ رہیں۔ واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1256
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم387 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16861 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16986»