حدیث نمبر: 1253
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((الْإِمَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ، اللَّهُمَّ ارْشِدِ الْأَئِمَّةَ وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: امام ضامن ہے اور مؤذن امین ہے، اے اللہ ائمہ کی راہنمائی فرما اور مؤذنوں کو بخش دے۔

وضاحت:
فوائد: … کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقتدیوں کی نماز کی مقبولیت امام کی نماز کی مقبولیت کے ساتھ معلق نہیں ہے، بہرحال لوگوں کی نمازوں کا امام کے ساتھ گہرا تعلق ہے، وہ وقت کی کتنی پاسداری کرتا ہے، بہترین نماز کے لیے نمازیوں کے حالات اور کیفیات کو مد نظر رکھ کر ان کا کس قدر خیال رکھتا ہے، اس کا طرزِ حیات کس حد تک پسندیدہ ہے کہ اس کے مقتدی اس کی اقتدا میں نماز پڑھ کر لطف محسوس کرتے ہوں۔ اسی طرح امام مسنون نماز پڑھانے اور دعاؤں میں مقتدیوں کو شامل رکھنے جیسے امور کی بھی پابندی کرے۔ اوقاتِ نماز اور سحر و افطار جیسے معاملات میں لوگوں کا کلی اعتماد مؤذن پر ہوتا ہے، اس لیے اسے بھی اس ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے، تاکہ لوگوں کی عبادات بروقت انجام پا سکیں۔ امامت اور اذان دینا اسلامی معاشرے کے باوقار مناصب ہیں، اس لیے انہیں کامل عزت و احترام دیا جائے اور بلاوجہ ان کی تحقیر نہ کی جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امام اور مؤذن دونوں کی ذمہ داریوں اور ان میں ممکنہ کوتاہیوں کو سامنے رکھ کر ان کے لیے مختلف دعائیں کیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1253
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 517، والبيھقي: 1/ 430 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7169 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9943»