حدیث نمبر: 1252
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ مَدَّ صَوْتِهِ وَيَشْهَدُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ وَشَاهِدُ الصَّلَاةِ يُكْتَبُ لَهُ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ حَسَنَةً وَيُكَفَّرُ عَنْهُ مَا بَيْنَهُمَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مؤذن کو اس کی آواز کے پھیلاؤ کے برابر بخش دیا جاتا ہے اور اس کے لیے ہر خشک اور ترچیز گواہی دیتی ہے اور باجماعت نماز ادا کرنے والے کے لیے پچیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس کے دو نمازوں کے درمیان والے گناہ مٹا دیے جاتے ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … یہ مؤذن کا شرف ہے کہ وہ اس قدر وسیع مغفرت کا مستحق بنتا ہے، اور اس کا یہ مفہوم بیان کرنا بھی درست ہے کہ یہ ایک تشبیہ و تمثیل ہے، یعنی اگر بالفرض اس کے گناہ اتنی جگہ میں بھی پھیلے ہوئے ہوں تو وہ بھی بخش دیئے جائیں گے۔
جمادات، حیوانات، نباتات غرضیکہ کائنات کی ہر چیز میں علم، ادرک اور شعور پایا جاتا ہے، یہ ضروری نہیں کہ انسان کو ان کی کیفیت کا علم ہو۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَاِنْ مِّنْ شَیْئٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہ} (سورۂ اسرائ: ۴۴) یعنی: ہر چیز اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتی ہے۔ مزید فرمایا: {وَاِنَّ مِنْھَا لَمَا یَھْبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ} (سورۂ بقرہ: ۷۴) یعنی: اور بعض پتھر اللہ کی خشیت سے گر پڑھتے تھے۔ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اس پتھر کو پہچانتا ہوں، جو مجھ پر سلام کہتا تھا۔ اور صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ جہنم کی آگ نے کہا: میرا
بعض میرے بعض کو کھا رہا ہے۔ قرآن و حدیث میں اس حقیقت کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ اس لیے غیر انسانی مخلوق کا مؤذن کے حق میں شہادت دینا کوئی بعید بات نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1252
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح بطرقه وشواھده۔ أخرجه الطيالسي: 2542، وابن ماجه: 724، وابوداود: 515، والنسائي: 2/ 12، وابن حبان: 1666، والبيھقي: 1/ 397 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9542 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9317»