الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
2 - بَابُ فَضْلِ الْأَذَانِ وَالْمُؤَذِّنِينَ وَالْأَئِمَّةِ باب: اذان، اذان کہنے والوں اور اماموں کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1247
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِسَنَدٍ صَحِيحٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((يَعْجَبُ رَبُّكَ … )) فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: ((يَخَافُ مِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُ فَأَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اوردوسری سند کے ساتھ مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں: وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آپ کا رب تعجب کرتا ہے پھرسابقہ حدیث کا معنی بیان کیا، البتہ آخری الفاظ یوں بیان کیے: یہ مجھ سے ڈرتا ہے، سو میں نے اسے بخش دیا اور جنت میں داخل کر دیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں اس آدمی کا تذکرہ ہو رہا ہے، جو لوگوں سے دور ہے اور کسی مسجد میں پہنچنا اس کے لیے ناممکن ہے۔ وہ نیکی اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے جو خلوت میں کی جائے، جہاں سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی دیکھنے والا نہ ہو، جہاں اطاعت و فرمانبرداری کی بنیاد صرف اور صرف خشیت ِ الٰہی ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی توفیق دے کہ ہماری خلوتوں اور جلوتوں میںیکسانیت پیدا ہو جائے۔ (آمین) لیکن ذہن نشین رہے کہ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کو مقدم سمجھا جائے، مثلا نمازِ باجماعت ادا کرنا، اس کا تعلق خلوت سے نہیںہے۔ اب اگر کوئی آدمییہ کہنا شروع کر دے کہ وہ فرضی نماز بھی خلوت میں ادا کرے گا، تو اس کا یہ کہنا درست نہ ہو گا، کیونکہ شرعی فیصلہ جماعت کے حق میں ہے۔ ہاں اگر کسی کو نماز باجماعت کی وجہ سے ریاکاری اور نمود و نمائش کا خطرہ ہو تو وہ تعوذ پڑھے اور اللہ تعالیٰ سے خلوص کی توفیق طلب کرے، نہ یہ کہ وہ جماعت ہی ترک کر دے۔ امام البانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: فقہ الحدیثیہ ہے کہ اکیلے آدمی کو بھی اذان کہنی چاہیے، امام نسائی نے اس حدیث پر یہی باب قائم کیا ہے۔ مسيء الصلاۃ والی حدیث کے بعض طرق کے مطابق نبی